جموں//چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے مشن یووا (یووا ادیمی وِکاس ابھیان) کے تحت یو ٹی وائیڈ بیس لائن سروے کا آغاز کیا جو لیبر اینڈ ایمپلائمنٹ (ایل اینڈ ای) اور پلاننگ ڈپارٹمنٹوں کے ذریعے مشترکہ طور پر کیا جائے گا تاکہ تقریباً 1.37 لاکھ ممکنہ کاروباری اَفراد کی شناخت کی جاسکے اور موجودہ کاروباری اِداروں سے رائے لی جاسکے۔تقریب میں سیکرٹری محنت وروزگار محکمہ اور ڈِی جی اِی اینڈ ایس کے علاوہ یو ٹی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلروں م ڈائریکٹر آئی آئی ایم جموں، ایم ڈی، جے کے بینک، ایم ڈی جے کے آر ایل ایم اور آئی آئی ٹی جموں، نبارڈ، بی آئی ایس اے جی ۔این کے نمائندوں کے علاوہ دیگر متعلقہ افسران نے بھی شرکت کی۔ضلع ترقیاتی کمشنروںنے اپنے متعلقہ دفاتر سے بذریعہ ویڈیو کانفرنسنگ اِفتتاحی تقریب میں شرکت کی۔اِس موقعہ پر چیف سیکرٹری نے اِس سروے کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور نوجوانوں کو روزگار کے مواقع کے طور پر اَنٹرپرینیورشپ اور سیلف ایمپلائمنٹ کو اَپنانے کے لئے تیار کرنے کے اصل مقصد کو اُجاگر کیا۔اُنہوں نے متعلقہ محکموں پر زور دیا کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر اِس عمل کی نگرانی کرکے اِس سروے کے معیار کو یقینی بنائیں۔ اُنہوں نے یہاں کی مختلف یونیورسٹیوں کے وائس چانسلروں کو یہ بھی مشورہ دیا کہ وہ اِس ڈیٹا کو مختلف تحقیقی مقالوں کی تکمیل میں مزید اِستعمال کریں۔
اَتل ڈولو نے محنت و روزگار محکمہ کو یہ بھی حکم صادر کیا کہ وہ بیک وقت مختلف یونیورسٹیوں اور نیشنل اِنسٹی چیوٹوں کے فیکلٹی ممبران کے ساتھ متعلقہ محکموں کے ماہرین کی ایک ٹیم تشکیل دینے پر کام کرے تاکہ اِس سروے کے اِختتام پر میں ان تجزیات سے ایک اچھی طرح سے معنی خیز دستاویز تیار کرنے کے لئے ایک تجزیاتی فریم ورک تیار کیا جاسکے۔اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ وہ اَپنی آئی اِی سی سرگرمیوں کے ذریعے ہر گاؤں اور پنچایت کے ہر گھر تک پہنچیں تاکہ لوگوں میں اِس سروے کی اہمیت کے بارے میں ضروری بیداری پیدا کی جاسکے۔چیف سیکرٹری نے کہا کہ لوگوں کو اِس سروے کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کیا جائے ۔ اُنہوں نے ضلع ترقیاتی کمشنروں کو ہدایت دی کہ کہ وہ آن لائن ایپلی کیشن کے کام کاج کے بارے میں اَپنی رائے دینے کے علاوہ زمینی سطح پر موجود ٹیموں کو مکمل تعاون فراہم کریں تاکہ اِنویسٹی گیٹروں کو درپیش کسی بھی تکنیکی خرابی کو فوری طور پر حل کیا جاسکے۔اُنہوں نے محکمہ کی مشاورت سے بی آئی ایس اے جی۔ این کے ذریعے تیار کردہ اِس سروے ایپ کے کام کاج کا بھی جائزہ لیاتاکہ اسے پیپر لیس عمل بنایا جاسکے۔ اُنہوں نے مشق کو آسان اور آسان بنانے کے علاوہ درپیش مسائل کو حل کرنے میں کنٹرول روم کی اہمیت پر زور دیا۔
سیکرٹری محنت و روزگار محکمہ کمار راجیو رنجن نے اَپنی پرزنٹیشن میںمیٹنگ کو بتایا کہ اِس سرگرمی کے دو اہم اجزأ ہیں جو موجودہ کاروباری اِداروں کا سروے کرتے ہیں تاکہ وہ درپیش چیلنجوں کو دیکھ سکیں اور ہماری آبادی سے ممکنہ کاروباری اَفراد کی شناخت کرسکیں۔اُنہوں نے مزید بتایا کہ محکمہ نے صوبائی سطح پر ماسٹر ٹرینروں اور ضلعی سطح پر تقریباً 1000 سپروائزروں اور 17,000 انویسٹی گیٹرروں کی تربیت کا کام پہلے ہی مکمل کیا ہے۔اُنہوں نے مزید کہا کہ فی الحال ایک پائلٹ سروے جاری ہے جس میں اَضلاع میں تقریباً 90,000 اِندراجات کئے گئے ہیں۔ ضلع ترقیاتی کمشنروں کے ساتھ اِس میٹنگ میں ہر ایک کے رول اور ذمہ داریوں کی عکاسی کی گئی جو اَپنے متعلقہ اَضلاع میں پورے عمل کی نگرانی کریں گے۔ اِنویسٹی گیٹروںکے لئے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا چاہئے اور فیلڈ کا دورہ کرنے کے بعد سروے کرنے والوں کے ذریعے درخواست میں درج ہر تفصیل کی تصدیق کرنے میں سپروائزروں کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔میٹنگ کو جانکاری دی گئی کہ اِس ایک ماہ طویل مشق کا مقصد 18 سے 49 برس کی عمر کے لوگوں کو کم سے کم 1.37 لاکھ نئے کاروبار شروع کرنے میں مدد دینے کے لئے اَنٹرپرینیورشپ کلچر اور مطلوبہ ماحولیاتی نظام کو فروغ دینا ہے جس سے جموں و کشمیر میں اگلے 5 برسوں میں تقریباً 4.25 لاکھ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔










