چیف سیکرٹری نے سیلاب کی بحالی کے کاموں کیلئے 3440.43 کروڑ روپے کے منصوبے کا جائیزہ لیا منصوبوں کی تکمیل کیلئے ٹائم لائینز پر سختی سے عمل کرنے پر زور

چیف سیکرٹری نے سیلاب کی بحالی کے کاموں کیلئے 3440.43 کروڑ روپے کے منصوبے کا جائیزہ لیا منصوبوں کی تکمیل کیلئے ٹائم لائینز پر سختی سے عمل کرنے پر زور

جموں//چیف سیکرٹری مسٹر اتل ڈولو نے ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی جس میں 2025 میں سیلاب اور اس سے منسلک آفات سے ہونے والے نقصانات کی مستقل بحالی سے متعلق کاموں کیلئے مختص فنڈز کے استعمال کے جامع منصوبے کا جائیزہ لیا ۔ میٹنگ میں اے سی ایس پی ڈی ڈی ، اے سی ایس فائنانس ، اے سی ایس پی ڈبلیو ڈی ، پرنسپل سیکرٹری ڈی ایم آر آر اینڈ آر ، کمشنر سیکرٹری ایچ اینڈ یو ڈی ڈی ، کمشنر سیکرٹری وائی ایس اینڈ ایس ، کمشنر سیکرٹری سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے شرکت کی ۔ ڈپٹی کمشنرز نے بھی اپنے اپنے دفاتر سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی ۔ چیف سیکرٹری نے تمام محکموں پر زور دیا کہ وہ ضروری انتظامی منظوری اور تکنیکی منظوری دیں تا کہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کام بغیر کسی تاخیر کے ٹینڈر اور مکمل ہوں ۔ انہوں نے مقررہ وقت میں کام کے لحاظ سے تکمیل کی تفصیلات جمع کرانے پر زور دیا اور اس بات پر بھی زور دیا کہ ہر پروجیکٹ کو منظور شدہ فہرست کے مطابق اور مقررہ تخمینہ کے اندر سختی سے عمل میں لایا جائے ۔ انہوں نے محکموں کو ہدایت دی کہ وہ منظوریوں میں تیزی لائیں تا کہ ٹینڈرنگ فوری طور پر مکمل ہو اور اس سال جون تک کاموں پر عملدرآمد شروع کر دیا جائے ۔ چیف سیکرٹری نے بحالی اور تعمیر نو کیلئے ڈیزاسٹر منیجمنٹ ڈویژن ، وزارت داخلہ ( ایم ایچ اے ) کی طرف سے جاری کردہ رہنما خطوط پر سختی سے عمل کرنے کی اہمیت پر زور دیا ۔ انہوں نے مشاہدہ کیا کہ وزارت ان کاموں کی تکمیل پر اپنی توجہ مرکوز رکھے گی اس لئے ہماری طرف سے بھی سب سے زیادہ ترجیح دینے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے تمام محکموں کو ہدایت دی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ پراجیکٹ کی تجاویز پی ڈی این اے کے نتائج سے ہم آہنگ ہیں اور مختلف سکیموں میں خاص طور پر آر اینڈ آر اور ایس اے ایس سی ایل اجزاء کے درمیان فنڈنگ کی کوئی نقل نہیں ہے ۔ چیف سیکرٹری نے خاص طور پر اہم شعبوں میں بروقت بحالی اور مستقبل کی آفات کے خلاف لچک میں اضافہ کو یقینی بنانے کیلئے بحالی کے کاموں میں تیزی لانے کی فوری ضرورت پر زور دیا ۔ انہوں نے 3440.43 کروڑ روپے کے منصوبے کے تحت تمام پروجیکٹوں کے قریبی بین ڈیپارٹمنٹل کوارڈینیشن ، مضبوط نگرانی کے طریقہ کار اور نتائج پر مبنی عمل درآمد پر زور دیا ۔