ملازمین کو ان کے ماہانہ بجلی کے بلوں کو کافی حد تک کم کرنے کیلئے شمسی توانائی کو اَپنانے کی ترغیب
سری نگر//چیف سیکرٹری ڈاکٹر ارون کمار مہتا نے سول سیکرٹریٹ سری نگر کے لان میں ملازمین میںسولر اَنرجی کو اَپنانے کے فوائد کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کے لئے لگائے گئے سٹالوں کا معائینہ کیا۔یہ کیمپ 2؍ اگست سے 4؍ اگست تک جے اینڈ کے اَنرجی ڈیولپمنٹ ایجنسی ( جے اے کے اِی ڈی اے) ، محکمہ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے قابل تجدید توانائی کی صنعت کے متعدد دُکانداروں اور جموںوکشمیر دیگر لائن محکموں کے اِشتراک سے منعقد کیا جارہاہے۔ڈاکٹر ارون کمار مہتا نے جے اینڈ کے اَنرجی ڈیولپمنٹ ایجنسی ( جے اے کے اِی ڈی اے)کی سراہنا کی کہ اِس بیداری کیمپ کو مرکزی حکومت کے زیر اہتمام گرڈ سے منسلک سولر روف ٹاپ پاور پلانٹوں کے بارے میں منعقد کیا گیا۔ اُنہوں نے ملازمین کی حوصلہ اَفزائی کی کہ وہ آگے آئیں اور توانائی کے اِس صاف اور قابل اعتماد ذرائع کا اَپنانے میں پیش پیش رہیں جس سے نہ صرف ان کے بجلی کے بِلوں میں خاطر خواہ کمی آئے گی بلکہ کاربن کے اَخراج کو بھی کم کر کے ہمارے ماحول کو بچایا جاسکے گا۔چیف سیکرٹری موصوف نے جے اینڈ کے اَنرجی ڈیولپمنٹ ایجنسی ( جے اے کے اِی ڈی اے)سے کہا کہ وہ جموںوکشمیر یوٹی کے دیگر حصوں میں اِس طرح کے مزید بیداری کیمپوں کا اِنعقاد کرے تاکہ لوگوں کو روف ٹاپ سولر پلانٹ ، کُسم سکیم اور اس کے فائنانسنگ پیٹرن کے بارے میں معلوم ہوسکے تاکہ فوائد تمام اہل اَفراد تک پہنچ سکیں۔اُنہوں نے کہا کہ حکومت متبادل قابل تجدید توانائی کے ذرائع کو فروغ دے کر فوسل فیول پر اَنحصار کم کرنے سے مستقبل کا تصور کرتی ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ کاربن کے اَخراج کو کم کرنے روف ٹاپ شمسی پروگرام سے سولر اَنرجی کی پیداوار جموںوکشمیر میں گھریلو صارفین کی بجلی کی ضروریات کو بھی پورا کرے گی ۔ اِس طرح ہمارے پاور ڈسکامز کو باقی صارفین کو معیاری بجلی فراہم کرنے میں مد د ملے گی۔چیف سیکرٹری ڈاکٹر ارون کمار مہتا نے کہا کہ آخرکار مستقبل قابل تجدید توانائی کا ہے ۔ اُنہوں نے مزید بتایا کہ صاف اور کم مضر صحت کے علاوہ توانائی لوگوں کے لئے سستی ہے ۔اُنہوں نے ان کی حوصلہ اَفزائی کی کہ وہ اِس مستقبل کی ٹیکنالوجی کو اَپنے گھریلواور زرعی مقاصد کے لئے آسانی سے اَپنائیں تاکہ اَپنے وسائل اور ماحول کو بھی بچایا جاسکے۔اِس موقعہ پرکمشنر سیکرٹری سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سوربھ بھگت نے کہا کہ محکمہ سولر اَنرجی کے اِستعمال کو پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر میںمقبول بنانے کے لئے ٹھوس کوششیں کررہا ہے ۔اُنہوں نے بتایا کہ مرکزی وزارتِ نئی اور قابل تجدید توانائی کی سکیموں کے تحت جموںوکشمیر یوٹی میں گھریلو بجلی کے صارفین بجلی کے مقاصد کے لئے روف ٹاپ سولر پی وِی پلانٹس لگا سکتے ہیں اور ایسے پلانٹوں کی تنصیب پر تقریباً 50 سے 65 فیصد سبسڈی حاصل کرنے کا فائدہ بھی حاصل کرسکتے ہیں۔اِس موقعہ پر بتایا گیا کہ سولر روف ٹاپس ایک کلوواٹ سے 10 کلوواٹ تک کی صلاحیت سے پانچ سال کی مفت دیکھ ریکھ کے ساتھ دستیاب ہیں ۔ مزید برآں،بینکوں سے جے اینڈ کے اَنرجی ڈیولپمنٹ ایجنسی ( جے اے کے اِی ڈی اے)کے ٹائی اَپ کے ساتھ ملازمین ای ایم آئی پر صرف 900 روپے فی ماہ سے شروع ہونے والے فوائد حاصل کرسکتے ہیں۔سکیم کی ایک قابل توجہ خصوصیت یہ ہے کہ اِس میں صرف 80 سے 100 مربع فٹ روف کا رقبہ فی کلوواٹ ہے جو اوسطاً ہر ماہ 120 سے 140 یونٹ توانائی پیدا کرتا ہے۔یہ بھی اِنکشاف ہوا کہ یہ تقریباً 1.43 ٹن کاربن کے اَخراج کو سالانہ فی کلوواٹ کے حساب سے پورا کرسکتا ہے جو کہ 66 درخت لگانے کے برابرہے ۔یہ توانائی کی پیداوار میں اِضافہ کرتا ہے جس کے نتیجے میں بجلی کی کٹوتی کے اَوقات کم ہوجاتے ہیں اور صارفین کی ضروریات کے مطابق پلانٹس کو اَپنی مرضی کے مطابق بنایا جاسکے تاکہ وہ اَپنے ماہانہ بجلی کے بِلوں کو ختم کرسکیں۔










