فوری ریلیف اور امداد کیلئے پہاڑی ، دور دراز علاقوں میں بہتر مواصلات کیلئے جدید ترین ٹیکنالوجی کے استعمال کی ہدایت
سرینگر//چیف سیکرٹری ڈاکٹر ارون کمار مہتا نے آفات سے نمٹنے کیلئے یو ٹی ایگزیکٹو کمیٹی کی ایک میٹنگ کی صدارت کی جس میں اضلاع میں آفات کی تیاری ، تخفیف اور انتظام کیلئے فنڈز کی ضرورت کا جائیزہ لیا ۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم ڈیپارٹمنٹ ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ خزانہ ، انتظامی سیکریٹریز ، ڈیزاسٹر منیجمنٹ ، ریلیف ، بحالی اور تعمیر نو ( ڈی ایم آر آر آر ) اور حکومت کے سپیشل سیکرٹری محکمہ محصولات نے میٹنگ میں شرکت کی ۔ یو ٹی ایگزیکٹو کمیٹی نے ایس ڈی آر ایف کے رہنما خطوط کے مطابق رواں مالی سال کے دوران قدرتی آفات کی وجہ سے ریلیف فراہم کرنے کیلئے کشمیر اور جموں ڈویژنوں کے ڈویژنل کمشنروں اور تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں کو بی ای ایم ایس کے ذریعے 28.56 کروڑ روپے جاری کرنے کی منظوری دی ۔ اس کے علاوہ ہر ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کی طرف سے ایک 4X4 ایمر جنسی ریسکیو گاڑیاں خریدنے کی بھی منظوری دی گئی تا کہ انتہائی موسمی حالات اور دور دراز علاقوں میں خاص طور پر پہاڑی علاقوں میں بچاؤ کی سہولت فراہم کی جا سکے ۔ آفات کے متاثرین کے درمیان امدادی رقم کی شفاف اور جوابدہ تقسیم کو یقینی بنانے اور قدرتی آفات سے بچاؤ اور تخفیف کے ضروری اقدامات کرنے کیلئے چیف سیکرٹری نے تمام ڈپٹی کمشنروں کو ہدایت دی کہ وہ اخراجات اٹھاتے وقت ایس ڈی آر ایف اور این ڈی آر ایف کے رہنما خطوط پر عمل کریں ۔ ڈیزاسٹر منیجمنٹ ، ریلیف ، بحالی اور تعمیر نو کے محکمے سے بھی کہا گیا کہ وہ اس معاملے میں نظر ثانی شدہ رہنما خطوط تمام ڈویژنل اور ضلع ترقیاتی کمشنروں کے ساتھ شئیر کریں ۔ فوری ردِ عمل اور راحت کیلئے ہنگامی امداد کی رسائی کو بڑھانے کے حوالے سے ڈیزاسٹر منیجمنٹ ڈیپارٹمنٹ سے کہا گیا کہ وہ آفات کے خطرے والے علاقوں خاص طور پر پہاڑی علاقوں اور دور دراز کے دشوار گذار مقامات کو جوڑنے کیلئے مواصلات میں ٹیکنالوجی کو زیادہ سے زیادہ استعمال کرے ۔ کمیٹی نے سرینگر ، پلوامہ اور بڈگام کے اہم ہنگامی آپریشن مراکز میں وی ایس اے ٹی ٹرمینلز کو برقرار رکھنے کیلئے ادائیگیوں کو منظوری دی ۔ محکمہ سے یہ بھی کہا گیا کہ وہ اہم تقریبات کے دوران کنیکٹیویٹی سے محروم علاقوں میں سیٹلائٹ ٹیلی فون کے ذریعے مواصلاتی خدمات میں مدد فراہم کرے ۔










