24جنوری تک موسم بنیادی طور پر خشک رہنے کا امکان، 25سے 30جنوری تک بارشوں اور برفباری کا امکان
سرینگر // خشک موسمی صورتحال کے چلتے وادی کشمیر میں شبانہ درجہ حرارت میں مزید کمی آئی ۔ سرینگر میں ایک مرتبہ پھر رات کا درجہ حرارت منفی 5.3ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جبکہ مشہور سیاحتی مقام پہلگام میں شبانہ درجہ حرارت منفی 6.9 ڈگری سیلشس ریکارڈ کیا گیا۔ ادھر محکمہ موسمیات کے مطابق 24 جنوری تک موسم بنیادی طور پر خشک اور جزوی طور پر ابر آلود رہنے کی پیشگوئی کرتے ہوئے کہا کہ 25سے 30جنوری تک مغربی ہوائیں اثر اندوز ہو رہی ہے جس کے نتیجے میں بارشیں اور برفباری ہونے کا امکان ہے ۔ سٹار نیوز نیٹ ورک کے مطابق جموں کشمیر اور لداخ میںشدید سردی کی لہر جاری ہے ۔ پوری وادی کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے اور یخ بستہ ہوائوں کی وجہ سے شدید سردی کی لہر جاری ہے ۔ محکمہ کے مطابق درجہ حرارت میں کمی ہونے کے ساتھ ہی پوری وادی سخت ترین سردی کے لپیٹ میں آچکی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ وادی کے ساتھ ساتھ لداخ خطہ بھی شدید سردی کی لپیٹ میں ہے ۔ محکمہ موسمیات کے مطابق سیاحتی مقام گلمرگ جہاں چلہ کلان میں سب سے زیادہ درجہ حرارت میں کمی ہوتی ہے میں تھوڑی سی بہتری آئی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق سرینگر میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 5.3 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ قاضی گنڈ میں گزشتہ رات منفی 5.2ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ محکمہ کے مطابق مشہور سیاحتی مقام پہلگام میں گزشتہ رات منفی کم سے کم درجہ حرارت منفی 6.9ڈگری سیلشس ریکارڈ کیا گیا ۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گلمرگ میں گزشتہ رات کے مقابلے میں منفی4.3ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ۔ محکمہ موسمیات نے بتایا کہ جنوبی ضلع پلوامہ اور شوپیان مسلسل سرد ترین علاقہ بنے ہوئے ہیں جس دوران پلوامہ میں شبانہ درجہ حرارت منفی7.4ڈگری اور شوپیان میں گزشتہ رات 7.4ڈگری ریکارڈ کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر 24 جنوری تک موسم کی کوئی خاص سرگرمی متوقع نہیں ہے۔ادھر محکمہ موسمیات نے پہلے ہی اس بات کی پیشگوئی کی ہے کہ 24 جنوری تک موسم بنیادی طور پر خشک اور جزوی طور پر ابر آلود رہنے کا امکان ہے۔ جموں و کشمیر کے میدانی علاقوں میں صبح کے اوقات میں دھند پڑنے کا بھی امکان ہے۔انہوں نے کہا کہ 25سے 30جنوری کے بعد سے ایک اور مغربی ہوائیں جموں و کشمیر کو متاثر کرنے کا امکان ہے اور بارش کے امکانات ہیں۔اس دوران گزشتہ رات بھر شدید سردی ہونے کے ساتھ سوموار کی صبح بھی سرینگر سمیت پوری وادی میں شدت کی سردی محسوس کی جارہی ہے۔شدید سردی کی لہر جاری رہنے کے باعث مسلسل جھیل ڈل کی اوپری سطح پوری طرح سے منجمد رہی۔صبح کے وقت چلنے والی یخ بستہ ہواؤں اور شدت کی سردی کی لہر برقرار رہنے کے باعث صبح کے وقت زیادہ تر لوگ گھروں سے باہر نہیں نکل پارہے ہیں۔درجہ حرارت منفی ریکارڈ ہونے اور شدید دھند چھائے رہنے کے نتیجے میں نل اور پانی کی ٹینکیوں میں بھی پانی جم گیا ہے جس وجہ سے اب گھروں کے اندر بھی پانی دستیاب نہیں ہو رہا ہے اور لوگوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ۔










