سرینگر//وادی کشمیر میںجموں سے تعلق رکھنے رکھنے والے غیر مسلم لوگ گزشتہ کئی سال سے یہاں کام کر رہے ہیں اور اپنے خدمات انجام دئے رہے ہیں انہیں خوفزدہ کرنے کے لئے پاکستان کے اشاروں پر یہاں ان کے ملی ٹینٹ یہاں ان کو نشانہ بنا رہے ہیں ۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق ان باتوں کا اظہار بھارتیہ جنتا پارٹی کے جموں و کشمیر یونٹ کے صدر روندر رینہ نے یہاں جموں میں احتجاجی کشمیری پنڈتو ںکے ساتھ بات چیت کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیری پنڈت یا جموں کے ڈوگرہ لوگ کشمیر میں مختلف سرکاری محکموں میں اپنے فرائض انجام دے رہیں ۔ان لوگوں کو فزدہ کرنے کے لئے پاکستان یہاں اقلیتوں پر حملے کر کے لیکن ایک سازش کے تحت انہیں ٹارگٹ کروا رہا ہے ۔انہوں نے کہا یہ ایک بڑی سازش ہے اور یہاںکشمیری پنڈتوں اور ڈوگروں کو نشانہ بنا کر ڈر ماحول پیدا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا یہ وہ ہی سازش ہے کہ اب یہاں بچے کچھے ہندو یا جموںسے تعلق رکھنے والے غیر مسلموں کو یہاں سے نکالا جائے ۔انہوںنے کہا ملی ٹنٹوںکو یہاں کے پولیس اور فوج نے چن چن کر مارکر ان کے کمر توڑ رکھ دیا ہے ۔رینہ نے کہا ان انہیں ساری صورتحال سے فرسٹریشن آئی اور ان لوگوں کو قتل کر رہے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کشمیر میں کام کر رہے تمام پنڈت ،ہندو اور باقی لوگوں کی حفاظت کے لئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں اس حوالے سے میں ایل جی سے بات کی ہے انہوں نے کہا حفاظت کا انتظام جموں و کشمیر انتظامیہ کا کام ہے انہوں نے کہا ہم گزشتہ30سال سے جنگ لڑ رہے ہیں اور اس جنگ میں ہم نے ان کی کمر توڑ کے رکھ دی ہے ۔ خیال رہے جموں کے سانبہ سے تعلق رکھنے والی ایک ہندو استانی کو گزشتہ روز جنوبی کشمیر کے گوپال پورہ کولگا م میں گولی مار کر ہلاک کیا گیا ہے جس کے خلاف کشمیر پنڈتوں کی ایک بڑی تعداد کشمیر وادی اور جموں میں احتجاج کر رہے ہیں ۔










