Rajnath Singh

پاکستان کی سرزمین کا ایک ایک انچ براہموس میزائل کی حدود میں

براہموس کی سہولت ہماری مسلح افواج کی طاقت کی علامت / راجناتھ سنگھ

سرینگر / سی این آئی // آپریشن سندور کے دوران جو کچھ ہوا وہ صرف ایک ٹریلر تھا کی بات کرتے ہوئے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ برہموس ہندوستان کی مسلح افواج کا ایک اہم ستون بن گیا ہے اور اس نے ملک کے اس یقین کو تقویت بخشی ہے کہ یہ اس کے خوابوں کو حقیقت میں بدل سکتا ہے ۔ سی این آئی کے مطابق وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا کہ لکھنوئو کی ایرو اسپیس سہولت میں مقامی طور پر تیار کردہ براہموس میزائلوں کی پہلی کھیپ کا آغاز ہندوستان کے بڑھتے ہوئے اعتماد اور طاقت کی علامت ہے۔ لکھنو میں برہموس میزائلوں کی پہلی کھیپ کی فلیگ آف تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا ’’ میرا ماننا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ برہموس کی ساکھ کے ساتھ ساتھ لکھنووکی ساکھ بھی بڑھی ہے۔ یہ پروجیکٹ ملک کے بڑھتے ہوئے اعتماد اور بڑھتی ہوئی طاقت کی بھی علامت ہے۔ لکھنوان چھ نوڈس میں سے ایک ہے جس نے اتر پردیش کے دفاع کو چند سال پہلے کوریج دیا تھا‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ براہموس کی یہ سہولت نہ صرف ہماری مسلح افواج کی طاقت کی علامت ہے، بلکہ یہ پیغام بھی دیتی ہے کہ اتر پردیش اب کسی بھی چیلنج سے نمٹنے کے لیے تیار ہے، چاہے وہ اندرونی سلامتی ہو یا بیرونی خطرات ہو ‘‘۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ پاکستان کی سرزمین کا ایک ایک انچ براہموس میزائل کی حدود میں ہے اور مزید کہا کہ آپریشن سندورکے دوران جو کچھ ہوا وہ صرف ایک ٹریلر تھا۔انہوں نے کہا ’’برہموس ہندوستان کی مسلح افواج کا ایک اہم ستون بن گیا ہے اور اس نے ملک کے اس یقین کو تقویت بخشی ہے کہ یہ اس کے خوابوں کو حقیقت میں بدل سکتا ہے۔ ‘‘ آپریشن سندور کے دوران برہموس کے کردار پر بات کرتے ہوئے راج ناتھ نے کہا کہ پاکستان کے خلاف فوجی آپریشن کے دوران جو واقعات رونما ہوئے وہ محض ایک ٹریلر تھے۔انہوں نے کہا ’’ آپریشن سندورکے دوران برہموس ہندوستان کی سلامتی کے لیے عملی ثابت ہوا، جیت محض ایک واقعہ نہیں ہے، بلکہ یہ ہماری عادت بن گئی ہے، آپریشن سندور میں جو کچھ ہوا وہ محض ایک ٹریلر تھا، تاہم اس ٹریلر نے خود پاکستان کو یہ باور کرایا کہ اگر ہندوستان پاکستان کو جنم دے سکتا ہے تو مجھے مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں کہ وہ اور کیا کرسکتا ہے‘‘۔سنگھ نے مزید کہا کہ ہندوستان ان چیلنجوں پر قابو پا رہا ہے جو اسپیئر پارٹس کی سپلائی چین میں خلل کی وجہ سے ابھرے ہیں، جس پر انہوں نے زور دیا کہ سپلائی کرنے والے ممالک اسے “ہتھیار” کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔