آپریشن سندور نے دہشت گردی کیخلاف ٹھوس موقف کا پیغام دیا: راجناتھ

پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے لوگ جموں و کشمیر کی تبدیلی اور ہندوستان کی ترقی سے متاثر

انہیں کھلے بازوؤں سے گلے لگائیں گے اور باوقار زندگی گزارنے کی اجازت دیں گے/ راجناتھ سنگھ

سرینگر// پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے لوگ جموں و کشمیر کی تبدیلی اور ہندوستان کی ترقی سے متاثر ہو رہے ہیں اور وہ بھارت میں ضم ہونا چاہتے ہیں کا ااعلان کرتے ہوئے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا کہ ُاُس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے جموں و کشمیر کیلئے انسانیت، کشمیریت اور جمہوریت کی وکالت کی تھی لیکن سیاسی جماعتوں کی جانب سے اس کا جواب ’’سیاست، سیاست، سیاست‘‘ سے دیا گیا۔سی این آئی کے مطابق جموں کے پونچھ ضلع میں ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا کہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے کے لوگ جموں و کشمیر کی تبدیلی اور ہندوستان کی ترقی سے متاثر ہو رہے ہیں اور اعلان کیا کہ اگر پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے لوگ یونین آف انڈیا میں ضم ہونا چاہتے ہیں، تو ہم انہیں کھلے بازوؤں سے گلے لگائیں گے اور انہیں باوقار زندگی گزارنے کی اجازت دیں گے۔انہوں نے کہا ’’ پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے لوگوں کی حالت زار دیکھیں۔ وہ وہاں کے جبر کی وجہ سے مایوسی محسوس کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی، وہ جموں و کشمیر کی تبدیلی اور ہندوستان کی ترقی سے متاثر محسوس کر رہے ہیں۔ ہم کانگریس کی طرح نہیں ہیں جو دعوی کرتی ہے کہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے لوگ ہمارے نہیں ہیں۔ ‘‘ انہوں نے کہا کہ ہونے والے اسمبلی انتخابات کو نہ صرف ہندوستانی شہری بلکہ پوری دنیا دیکھ رہی ہے۔ راجناتھ سنگھ نے کہا ’’ لوک سبھا انتخابات میں، جموں و کشمیر میں 58 فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی اور لداخ میں 82 فیصد پولنگ ہوئی، جو اپنے آپ میں ایک ریکارڈ تھا۔ ‘‘ انہوں نے کہا کہ اس وقت کے وزیر اعظم آنجہانی اٹل بہاری واجپائی نے جموں و کشمیر کے لیے انسانیت، کشمیریت اور جمہوریت کی وکالت کی تھی لیکن سیاسی جماعتوں کی جانب سے اس کا جواب ’’سیاست، سیاست، سیاست‘‘ سے دیا گیا۔سنگھ نے کہا کہ آج ہندوستان ایک ترقی پذیر ملک ہے۔ ’’ہندوستان وہ نہیں جو دس سال پہلے تھا۔ ایک وقت تھا، جب عالمی برادری اس پر کان نہیں دھرتی تھی کہ ہندوستان بین الاقوامی شکلوں میں کیا کہتا تھا۔ آج حالات بدل چکے ہیں، عالمی رہنما صبر و تحمل کے ساتھ مختلف بین الاقوامی معاملات پر ہندوستان کے موقف کو نوٹ کرتے اور سنتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2027 تک ہندوستان دنیا کی تیسری بہترین جمہوریت ہوگا۔سنگھ نے کہا کہ مرکز نے دفعہ 370 کو منسوخ کر دیا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ لال چوک میں ایسی جگہ پر ترنگا بلند ہو جہاں قومی پرچم نہیں لہرایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا ’’ کیا یہ بہت بڑی ناانصافی نہیں تھی کہ کشمیر ہندوستان کا حصہ ہونے کے ناطے لال چوک پر ترنگا نہیں لہرا رہا تھا۔ آج شہر کے مرکز میں قومی پرچم بلند ہے۔ ‘‘ انہوں نے کہا کہ بی جے پی پرانے دن واپس نہیں آنے دے گی۔ سنگھ نے کہا’’حقیقت یہ ہے کہ 1990 کے بعد سے جموں و کشمیر میں مارے جانے والوں میں سے 80 فیصد اکیلے مسلمان تھے۔ہم ایسی جگہ کو خون بہانے کی اجازت نہیں دیں گے جہاں کشمیری پنڈت اور مسلمان آج بھی بڑی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے ساتھ کھیر بھوانی میلہ مناتے ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا ’’۱ٍب این سی، کانگریس اور پی ڈی پی جیسی سیاسی پارٹیوں کی جانب سے شنکراچاریہ کا نام تخت سلیمانی اور ہری پربت کا نام بدل کر کوہ مارن کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔‘‘سنگھ نے کہا کہ پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف کا کھلے عام یہ دعویٰ کرنا کہ ان کا ملک آرٹیکل 370 پر جموں و کشمیر میں این سی، پی ڈی پی اور کانگریس کے ساتھ ایک ہی صفحے پر ہے ایک حیران کن بیان ہے۔ وزیر دفاع نے کہا کہ جب وہ ہندوستان کے وزیر داخلہ تھے تو وہ نوجوان پتھربازوں کے خلاف درج ایف آئی آر واپس لینے کا حکم دینے والے شخص تھے۔ انہوں نے کہا، ’’میں نے پتھر پھینکنے کیلئے نوجوان لڑکوں پر کبھی الزام نہیں لگایا بلکہ وہ لوگ جو انہیں اکساتے تھے‘‘۔