Joshi Math Uttarakhand-style crisis and terrifying situation in the hill town of Thathri Doda

ٹھاٹھری ڈوڈہ کی پہاڑی بستی میں جوشی مٹھ اُتر اکھنڈ طرز کی بحرانی ا ورخوفناک صورتحال

2درجن رہائشی مکانوں اور دیگر عمارتوں میں دراڑیں, 100سے مردوزن وبچوں پر مشتمل19خاندان عارضی پناہ گاہوں میں منتقل:حکام

سری نگر//اتراکھنڈ کے جوشی مٹھ علاقہ کے بعد جموں وکشمیر کے پہاڑی ضلع ڈوڈہ میں بھی مکانات ودیگرعمارات میں دراڑیں پڑ نے لگی ہیں،اور ایک پہاڑی گائوں آہستہ آہستہ دھنس رہا ہے ۔حکام نے اسکی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ ڈوڈہ قصبہ سے 35 کلومیٹر دور ٹھاٹھری کے گاؤں نئی بستی میں ایک درجن سے زیادہ رہائشی مکانات کے علاوہ ایک مسجد اور لڑکیوں کیلئے ایک مذہبی مدرسہ کو بھی غیر محفوظ قرار دیاگیاہے۔انہوںنے بتایاکہ 19خاندانوںکوپُرخطر علاقہ سے عارضی پناہ گاہوں میں منتقل کر دیا گیاہے ،اور اس علاقے میں فوری نوعیت کے بچائو اقدامات بھی شروع کردئیے گئے ہیں ۔جے کے این ایس کے مطابق ریاست اُتراکھنڈ کے جوشی مٹھ کے بعد اب جموں و کشمیر کے ڈوڈہ ضلع میں عمارتوں میں دراڑیں پڑنے لگی ہیں۔ ایس ڈی ایم ٹھاٹھری ڈوڈہ اطہر امین زرگرنے بتایا کہ یکم فروری2023 بروز جمعرات تک 6 عمارتوں میں دراڑیں پڑ چکی تھیں تاہم اب بحران بڑھنا شروع ہو گیا ہے اور یہ علاقہ آہستہ آہستہ دھنس رہا ہے۔ایس ڈی ایم نے کہا کہ ڈوڈا ضلع کے ایک گھر میں پہلی بار دسمبر2022 میں دراڑیں پڑنے کی اطلاع ملی تھی لیکن اب صورتحال مزید بڑھ گئی ہے اور کئی عمارتوں میں دراڑیں نظر آرہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ پہاڑی علاقہ آہستہ آہستہ دھنس رہا ہے اور حکومت جلد از جلد بحران کو ٹالنے کیلئے کوئی حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔حکام نے جمعہ کو بتایا کہ جموں و کشمیر کے ڈوڈہضلع کے ایک پہاڑی گاؤں ٹھاٹھری میں کئی گھروں یعنی رہائشی مکانات میں دراڑیں پڑنے کے بعد19 خاندانوں کو وہاں سے نکال کرعارضی پناہ گاہوں میں منتقل کر دیا گیاہے۔حکام نے ٹھاٹھری کے گاؤں نئی بستی میں واقع ایک مسجد اور لڑکیوں کیلئے مخصوص ایک مذہبی درس گاہ کی عمارت کو بھی غیر محفوظ قرار دیا۔حکام نے بتایاکہ ٹھٹھری گاؤں کے کچھ ڈھانچوں میں کچھ دن پہلے ہی دراڑیں پڑنا شروع ہوئیں لیکن جمعرات کو مٹی کے تودے گرنے سے صورتحال مزید خراب ہو گئی جس کے بعد تباہ ہونے والی عمارتوں کی تعداد 21 تک پہنچ گئی۔سب ڈویڑنل مجسٹریٹ (ٹھاٹھری) اطہر امین زرگر نے کہاکہ ہم نے19 متاثرہ خاندانوں کو ان کے مکانات غیر محفوظ ہونے کے بعد محفوظ مقام پر منتقل کر دیا ہے،اورہم صورتحال کا مشاہدہ کر رہے ہیں اور ان کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ضرورت کے مطابق اقدامات کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر اور پولیس کے سینئر سپرنٹنڈنٹ نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور متاثرہ خاندانوں کو ہر طرح کی مدد کا یقین دلایا۔تاہم ایس ڈی ایم ٹھاٹھری ڈوڈہ اطہر امین زرگر نے اتراکھنڈ کے جوشی مٹھ کی صورت حال کا موازنہ کرنے سے انکار کر دیا، جو کہ بدری ناتھ اور ہیم کنڈ صاحب جیسے مشہور زیارت گاہوں کا گیٹ وے ہے، جو زمین کے نیچے آنے کی وجہ سے ایک بڑے چیلنج کا سامنا کر رہا ہے۔انہوںنے کہاکہ نئی بستی ٹھاٹھری کی صورتحال کا دھنستے ہوئے شہر جوشی مٹھ سے موازنہ کرنا مبالغہ آرائی ہوگی۔ انہوںنے کہاکہ ہمیں لینڈ سلائیڈنگ کا مسئلہ درپیش ہے اور چناب ویلی پاور پروجیکٹس اور نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا کے ماہرین ارضیات پہلے ہی اس جگہ کا معائنہ کر چکے ہیں۔ کچھ خاندان ضلعی انتظامیہ کی طرف سے قائم کردہ عارضی پناہ گاہ میں منتقل ہو گئے ہیں، بہت سے دوسرے اپنے آبائی گھروں کو واپس آ گئے ہیں۔ایس ڈی ایم نے مزید کہاکہ ہم کیمپ سائٹ پر کھانے اور بجلی سمیت تمام ضروری انتظامات کر رہے ہیں۔زاہدہ بیگم، جن کے خاندان کو ایک عارضی جگہ پر منتقل کیا گیا تھا، نے میڈیا کو بتایا کہ وہ گاؤں میں15 سال سے مقیم ہیں اور کنکریٹ کے مکانوں میں دراڑیں دیکھ کر حیران رہ گئیں۔نئی بستی ٹھاٹھری گاؤں میں50 سے زیادہ گھرانوں میں خوف و ہراس ہے۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں کی مناسب بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ جمعرات کے لینڈ سلائیڈنگ کے بعد زیادہ تر ڈھانچوں میں دراڑیں پڑ گئیں۔ایک اور مقامی رہائشی فاروق احمد نے بتایا کہ پولیس اہلکاروں، سابق فوجیوں، دفاعی اہلکاروں اور مزدوروں کے 19 خاندانوں کے117 افراد کو عارضی پناہ گاہوںمنتقل کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ نئی بستی ٹھاٹھری تقریباً2 دہائیاں قبل تیار کی گئی تھی اور اس طرح کا کوئی مسئلہ نہیں تھا۔فاروق احمد نے مزید کہاکہ ہم این جی اوز اور مخیر حضرات سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ آگے آئیں اور متاثرہ لوگوں کی مدد کریں۔