سری نگر//مون سون کی اضافی یا بے تحاشہ بارشوں کی وجہ سے آندھرا پردیش،مہاراشٹرہ اور کرناٹک میں ’ٹماٹر‘کی فصل کو پہنچنے والے ناقابل تلافی نقصان کی وجہ سے جہاں ہر سبزی اور گوشت میں گل مل جانے والاٹماٹر باقی ماندہ کسانوں کیلئے جیسے ’سرخ سونا ‘بن گیاہے ،کیونکہ رواں سال ٹماٹر فی کلوکی قیمت میں تقریباً600فیصد اضافہ ریکارڈ کیاگیا۔جے کے این ایس کے مطابق ماہ جون میں جہاں ٹماٹر فی کلو کی اوسط قیمت 25سے30روپے کے درمیان تھی ،اب اسکی فی کلوقیمت150روپے سے بھی تجاوز کرچکی ہے ۔مرکزی محکمہ امور صارفین کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ11 جولائی تک ٹماٹر کی قیمتیں سال بہ تاریخ 341 فیصد بڑھ کر24.68 روپے فی کلو گرام سے 108.92 روپے فی کلو تک پہنچ گئیں۔جبکہ اب ٹماٹر فی کلو کی قیمت ملک کے اہم ترین شہروں بشمول نئی دہلی ،بنگلور ،چندی گڑھ ،سری نگر اورجموںمیں 150سے 200 روپے تک پہنچ گئی ہیں ۔ بھارت کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف بائیوٹک اسٹریسس مینجمنٹ کے مطابق، آندھرا پردیش، مہاراشٹرا، کرناٹک جیسی بڑی ٹماٹر پیدا کرنے والی ریاستوں میں سیلاب قیمتوں میں اضافے کا ایک اہم محرک رہا ہے۔حکومتی اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال جولائی کے مقابلے ٹماٹر کی قیمتوں میں 166 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ نتیجتاً، روئٹرز کے ایک سروے کے مطابق، جون میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے کے باعث بھارت کی افراط زر کی شرح میں سال بہ سال 4.58 فیصد اضافہ ہونے کا امکان ہے۔اسبات سے قطع نظرکہ ٹماٹر کی قیمت میں ہوئے بے ہنگم اضافے کی وجہ سے اب عام اورغریب صارفین کیلئے ٹماٹر شجرممنوع بن گیاہے ،کسانوں کیلئے ٹماٹر جیسے سرخ سونا بن گیاہے ،کیونکہ اُنھیں ٹماٹر کی اتنی زیادہ قیمت مل رہی ہے ،جو انہوںنے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔جموں وکشمیرکے ضلع اودھم پورکے کسان بہت زیادہ خوش ہیں ،کیونکہ اُنھیں ٹماٹر کی منہ مانگی قیمت وصول ہورہی ہے ۔اس ضلع کے چنینی علاقے کے ایک کسان محمداسلم بٹ کاکہناہے کہ اُنھیں ٹماٹر سے اچھی خاصی کمائی ہورہی ہے۔انہوںنے انکشاف کیاہے کہ دودہائیوں کے بعد،انہوںنے ٹماٹر فی کریٹ کیلئے3000روپے کمائے ،جو گزشتہ قیمت150سے200روپے فی کریٹ سے کئی گنازیادہ ہے ۔ذخیرہ اندوزوں کے بھی وارے نیارے ہیں ،کیونکہ انہوںنے ٹماٹر کوگوداموںمیں چھپانے اورذخیرہ کرنے کے بعداب سونے کے بائو فروخت کرنا شروع کیا ،جسے عام صارفین بے حال ہورہے ہیں۔










