میک اِن انڈیا، آیوشمان بھارت اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں سے ترقی کو رفتار// امیت شاہ
سرینگر// بھارت میں امریکہ کے سفیر سرجیو گورنے جمعرات کو مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ سے ملاقات کی، جس کے دوران دہشت گردی، منشیات کی اسمگلنگ اور سرحدی سلامتی سمیت مختلف اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔یو این ایس کے مطابق سرجیو گور نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ ان کی وزیر داخلہ امت شاہ کے ساتھ ایک نہایت مفید اور مثبت ملاقات ہوئی۔انہوں نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے دہشت گردی کے خلاف تعاون کو مزید مضبوط بنانے، منشیات اور غیر قانونی نشہ آور اشیا سے عوام کو محفوظ رکھنے، سرحدی سلامتی کو مؤثر بنانے اور دونوں ممالک میں جرائم پیشہ عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے باہمی اشتراک کو فروغ دینے پر تفصیلی گفتگو کی۔امریکی سفیر نے اس ملاقات کو دوطرفہ تعاون کے فروغ اور سلامتی سے متعلق مشترکہ چیلنجوں سے نمٹنے کی سمت میں اہم قرار دیا۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں گزشتہ 12 برس ملک کی تاریخ میں ترقی اور ثقافتی ورثے کے حسین امتزاج کے طور پر یاد رکھے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس عرصے کے دوران ایک طرف ملک میں بڑے ترقیاتی منصوبوں کو عملی جامہ پہنایا گیا، جبکہ دوسری جانب بھارت کی تہذیبی، مذہبی اور ثقافتی شناخت کو مضبوط بنانے کیلئے بھی غیر معمولی اقدامات کئے گئے۔یو این ایس کے مطابق امت شاہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ مودی حکومت کے 12 سال’وکاس بھی، وراثت بھی‘ کے ویژن کی کامیاب عکاسی کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اس دور میں ایودھیا میں شری رام مندر کی تعمیر، کاشی وشوناتھ کوریڈور اور اجین کے مہاکال لوک جیسے تاریخی و مذہبی منصوبے مکمل ہوئے، جبکہ دوسری طرف پردھان منتری آواس یوجنا، آیوشمان بھارت، انا بھنڈار اسکیم، عالمی معیار کے بنیادی ڈھانچے اور “میک اِن انڈیا” جیسے اقدامات نے ملک کی ترقی کو نئی رفتار بخشی۔مرکزی حکومت نے بھی 12 سالہ کارکردگی کے حوالے سے جاری ایک تفصیلی بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران ثقافتی ورثے کے تحفظ، فروغ اور ترقی کو قومی ترقیاتی حکمت عملی کا اہم حصہ بنایا گیا۔ حکومت کے مطابق ورثے کے تحفظ کو سیاحت، روزگار، معیشت اور ثقافتی سفارت کاری کے ساتھ جوڑنے کی پالیسی اختیار کی گئی تاکہ اس کے فوائد براہ راست عوام تک پہنچ سکیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ اس عرصے کے دوران ایک کروڑ سے زائد تاریخی اور ثقافتی ریکارڈز کو ڈیجیٹل شکل دی گئی، جبکہ بیرون ملک سے 668 سے زیادہ نایاب اور قدیم نوادرات وطن واپس لائے گئے۔ اس کے علاوہ ملک بھر میں قبائلی آزادی پسند رہنماؤں کی یاد میں 11 خصوصی عجائب گھر قائم کئے گئے اور 11 بھارتی زبانوں کو کلاسیکی زبانوں کا درجہ دیا گیا۔یو این ایس کے مطابق حکومت کے مطابق تاریخی مقامات، مندروں، یادگاروں اور مذہبی مراکز کی بحالی، تزئین و آرائش اور سیاحتی سہولیات کی بہتری کیلئے بھی متعدد منصوبے شروع کئے گئے۔ ورثہ شہروں اور مذہبی سیاحتی سرکٹس کی ترقی پر خصوصی توجہ دی گئی تاکہ ملک کی ثقافتی شناخت کو عالمی سطح پر مزید اجاگر کیا جا سکے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت کے تاریخی آثار، نوادرات، مخطوطات اور ثقافتی مقامات محض ماضی کی یادگاریں نہیں بلکہ نسل در نسل منتقل ہونے والا مشترکہ قومی سرمایہ ہیں۔ اسی سوچ کے تحت 2014 کے بعد متعدد پروگرام شروع کئے گئے جن کا مقصد نہ صرف ان اثاثوں کا تحفظ تھا بلکہ انہیں معاشی ترقی اور سیاحت کے فروغ کے ساتھ بھی جوڑا گیا۔حکومت نے دعویٰ کیا کہ وزیر اعظم مودی کی قیادت میں ثقافتی ورثے کے تحفظ اور قومی ترقی کو ایک دوسرے کا تکملہ بنایا گیا۔ اسی پالیسی کے نتیجے میں شری رام جنم بھومی مندر، کاشی وشوناتھ کوریڈور اور دیگر مذہبی و ثقافتی منصوبوں نے نہ صرف عقیدت مندوں کو سہولت فراہم کی بلکہ مقامی معیشت، روزگار اور سیاحتی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملا۔بیان کے مطابق مخطوطات کی ڈیجیٹلائزیشن، مذہبی سیاحت کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع، سیاحتی رابطوں میں بہتری اور بھارتی روایات کو عالمی سطح پر متعارف کرانے کے اقدامات مستقبل کی نسلوں کیلئے ملک کے ثقافتی ورثے کے تحفظ میں اہم کردار ادا کریں گے۔امت شاہ نے کہا کہ مودی حکومت کا مقصد صرف اقتصادی ترقی تک محدود نہیں بلکہ ایک ایسے بھارت کی تعمیر ہے جو اپنی قدیم تہذیبی شناخت کو محفوظ رکھتے ہوئے جدید ترقی کی راہ پر گامزن ہو۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں کے دوران ترقی اور ورثے کے امتزاج نے بھارت کو نئی شناخت دی ہے اور یہی وڑن آئندہ برسوں میں بھی ملک کی رہنمائی کرتا رہے گا۔










