دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ جموں و کشمیر میں سب کچھ ٹھیک ہے/ کانگریس ترجمان
سرینگر // وزیر اعظم مودی کی تیسری مدت کے دوران جموں و کشمیر میں دہشت گردی میں اضافہ ہوا کی بات کرتے ہوئے کانگریس ترجمان سپریہ شرینتے نے الزام عائد کیا کہ مودی حکومت جموں و کشمیر میں ملی ٹنٹ حملوں کو ختم کرنے میں ناکام ہوئی اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں جہاں کئی سال پہلے اسے ختم کیا گیا تھا، وہاں دہشت گردی دوبارہ مضبوط ہوئی ہے۔سی این آئی کے مطابق سرینگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس پارٹی کی ترجمان سپریہ شرینتے نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے تیسری میعاد کیلئے حلف لینے کے بعد سے 98 دنوں میں جموں و کشمیر میں 25 ملی ٹنٹ حملے ہو چکے ہیں۔انہوں نے کہا ’’ بڑے دعوے کیے گئے کہ اگست 2019 کے بعد جموں و کشمیر میں امن قائم ہو جائے گا۔ میں 2014 یا 2019 کے وقت کے بارے میں بات نہیں کروں گا، لیکن مودی کو حلف اٹھائے 98 دن ہوچکے ہیں۔ گزشتہ 98 دنوں میں جموں کشمیر میں 25 دہشت گرد حملے ہوئے ہیں جن میں 21 سیکورٹی اہلکار مارے گئے جبکہ 28 دیگر زخمی ہوئے۔ شرینتے نے کہا کہ ان دہشت گردانہ حملوں میں مرکز کے زیر انتظام علاقے کے 15 شہری بھی اپنی جانیں گنوا چکے ہیں، جب کہ 47 لوگ زخمی ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا ’’ اس کا جواب کون دے گا؟ جموں پرامن تھا، وہاں شورش ختم ہو گئی تھی، لیکن اب، ہم جموں کے ڈوڈہ، ریاسی اور دیگر علاقوں میں دوبارہ دہشت گردانہ حملوں کا مشاہدہ کر رہے ہیں‘‘۔کانگریس کے ترجمان نے کشتواڑ ضلع میں دہشت گردوں کے ساتھ تصادم میں اپنی جان گنوانے والے دو فوجیوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم 2019 سے ہلاک ہونے والے فوجیوں کو خراج تحسین پیش نہیں کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا ’’وزیراعظم چھوٹے چھوٹے مسائل پر ٹویٹ کرتے ہیں، سفر کرنے کیلئے دنیا کے نقشے پر نئے ممالک دریافت کرتے ہیں اور لوگوں کو سالگرہ کی مبارکباد دیتے ہیں، لیکن 2019 سے مودی نے خراج تحسین یا ہمدردی کے پیغامات بھیجنا بند کر دیا ہے۔ ہمارے افسران، اور فوجیوں نے اپنی جانیں گنوائیں، جموں اور کشمیر کے پولیس اہلکار مارے گئے، لیکن مودی نے 2019 کے بعد خراج تحسین یا ہمدردی پیش کرنے کے لیے ایک لفظ بھی نہیں بولا‘‘۔انہوں نے کہا کہ مودی نے ایسا نہ کرنے کا انتخاب کیا کیونکہ آپ دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ جموں و کشمیر میں سب کچھ ٹھیک ہے۔










