دنیا بھارت کے نوجوانوں، ٹیکنالوجی اور اختراعی صلاحیتوں سے متاثر،نوجوانوں کی طاقت ہی ترقی یافتہ بھارت کی ضمانت
سرینگر// یو این ایس// وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ بھارت کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی سفارتی اور اقتصادی شراکت داریوں کا بنیادی مقصد ملک کے نوجوانوں کیلئے روزگار، جدید مہارتوں اور عالمی سطح کے مواقع پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج دنیا بھارت کے نوجوانوں، ان کی تکنیکی صلاحیتوں، اختراعی سوچ اور تیز رفتار ترقی سے بے حد متاثر ہے اور عالمی کمپنیاں بھارت کو مستقبل کی سب سے بڑی اقتصادی طاقتوں میں شمار کر رہی ہیں۔یو این ایس کے مطابق وزیر اعظم نے یہ خیالات ہفتہ کے روز 19ویں ’’روزگار میلہ‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے ظاہر کئے، جہاں انہوں نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے 51 ہزار سے زائد نوجوانوں میں مرکزی سرکاری ملازمتوں کے تقرر نامے تقسیم کئے۔ ملک بھر کے 47 مختلف مراکز پر منعقدہ اس تقریب میں ہزاروں نوجوانوں نے شرکت کی، جو مختلف مرکزی وزارتوں اور سرکاری اداروں میں اپنی خدمات انجام دیں گے۔اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے کہا کہ آج کا بھارت تیزی کے ساتھ عالمی معیشت میں ایک مضبوط اور بااثر ملک کے طور پر ابھر رہا ہے اور اس تبدیلی کے پیچھے سب سے بڑی طاقت ملک کے نوجوان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی رہنما، بین الاقوامی کمپنیاں اور سرمایہ کار بھارت کے نوجوانوں اور ملک کی تکنیکی ترقی کو مستقبل کی ترقی کا انجن تصور کر رہے ہیں۔مودی نے حال ہی میں مکمل ہونے والے اپنے پانچ ملکی دورے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ متحدہ عرب امارات، نیدرلینڈز، سویڈن، ناروے اور اٹلی کے دوروں کے دوران مختلف عالمی کمپنیوں اور سربراہان نے بھارت کے نوجوانوں کی صلاحیتوں اور ملک کے ٹیکنالوجی سیکٹر کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا اب بھارت کے ترقیاتی سفر کا حصہ بننا چاہتی ہے۔وزیر اعظم نے واضح کیا کہ بھارت کی تمام بین الاقوامی شراکت داریوں کو اس انداز میں تشکیل دیا جا رہا ہے تاکہ ان کا براہِ راست فائدہ ہندوستانی نوجوانوں کو پہنچے۔انہوں نے کہا ’’ہماری کوشش ہے کہ بھارت کے نوجوانوں کو روزگار ملے، عالمی سطح کی مہارت حاصل ہو اور انہیں دنیا کے بڑے صنعتی و تکنیکی اداروں کے ساتھ کام کرنے کا موقع میسر آئے،‘‘ ۔انہوں نے بتایا کہ نیدرلینڈز کے ساتھ سیمی کنڈکٹر، زراعت، پانی کے انتظام اور ایڈوانس مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں اہم بات چیت ہوئی جبکہ سویڈن کے ساتھ مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل اختراع کے میدان میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ اسی طرح ناروے کے ساتھ گرین ٹیکنالوجی اور میری ٹائم سیکٹر، متحدہ عرب امارات کے ساتھ اسٹریٹجک توانائی اور سپر کمپیوٹنگ جبکہ اٹلی کے ساتھ دفاع، اہم معدنیات، سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں اہم معاہدے طے پائے۔یو این ایس کے مطابق مودی نے کہا کہ یہ تمام شعبے آئندہ 20 سے 25 برسوں میں دنیا کی معیشت اور صنعت کی سمت متعین کریں گے، اس لئے بھارت ان میدانوں میں عالمی شراکت داریوں کو مضبوط بنا رہا ہے تاکہ مستقبل کی معیشت میں ملک کا کردار مزید مستحکم ہو۔انہوں نے اے ایس ایم ایل اور ٹاٹا الیکٹرانکس کے درمیان ہونے والے معاہدے کو بھارت کیلئے ایک بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ ملک میں ہزاروں نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا کرے گا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ دنیا کی معروف ڈچ سیمی کنڈکٹر کمپنی ’اے ایس ایم ایل‘نے صرف چند ممالک کے ساتھ ہی اس نوعیت کے معاہدے کئے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت عالمی سپلائی چین میں ایک قابلِ اعتماد شراکت دار بن چکا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سویڈن کے ساتھ مصنوعی ذہانت کے میدان میں تعاون اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ سپر کمپیوٹنگ میں شراکت داری بھارت کی تکنیکی صلاحیتوں کو نئی بلندیوں تک لے جائے گی۔ اسی طرح گرین ہائیڈروجن، کلین انرجی، پائیدار مینوفیکچرنگ اور اہم معدنیات کے شعبے مستقبل میں لاکھوں نئی ملازمتیں پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت تیزی سے کلین مینوفیکچرنگ اور گرین اکانومی کی جانب بڑھ رہا ہے اور اس عمل میں نوجوان انجینئروں، تکنیکی ماہرین اور ہنرمند افرادی قوت کیلئے بے شمار نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ بندرگاہوں، شپنگ اور میری ٹائم انفراسٹرکچر سے متعلق معاہدے بھارت کے شپ بلڈنگ سیکٹر کو مزید مضبوط کریں گے، جس کا براہِ راست فائدہ نوجوانوں کو روزگار کی صورت میں حاصل ہوگا۔یو این ایس کے مطابق مودی نے ملک میں بڑھتے ہوئے اسٹارٹ اپ کلچر کو بھی بھارت کی معیشت کیلئے خوش آئند قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اب دنیا کا تیسرا سب سے بڑا اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم بن چکا ہے جہاں 2.3 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ اسٹارٹ اپ سرگرم عمل ہیں۔ انہوں نے اس بات پر خوشی ظاہر کی کہ اب صرف بڑے شہروں ہی نہیں بلکہ ٹائر-2 اور ٹائر-3 شہروں کے نوجوان بھی اختراع، تحقیق اور کاروباری سرگرمیوں میں بڑی تعداد میں شامل ہو رہے ہیں۔انہوں نے خواتین کی بڑھتی ہوئی شراکت داری کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ خواتین اب کاروبار، ٹیکنالوجی اور اسٹارٹ اپس کے میدان میں نمایاں اور فیصلہ کن کردار ادا کر رہی ہیں، جو بھارت کی معیشت کیلئے ایک مثبت اور تاریخی تبدیلی ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت ’’وکست بھارت 2047‘‘ کے وڑن کو حقیقت کا روپ دینے کیلئے مختلف شعبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ ان کے مطابق انفراسٹرکچر، الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ، ریلوے، دفاع، صحت، تعلیم اور ڈیجیٹل شعبوں میں جاری ترقیاتی منصوبے لاکھوں نئی ملازمتیں پیدا کر رہے ہیں۔انہوں نے پروڈکشن لنکڈ انسینٹو اسکیم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس اسکیم نے بھارت کو دنیا کے بڑے الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ مراکز میں تبدیل کر دیا ہے۔ وزیر اعظم کے مطابق موبائل فون اور دیگر الیکٹرانک مصنوعات کی ریکارڈ پیداوار کے ساتھ ساتھ لاکھوں نوجوانوں کو روزگار کے مواقع بھی حاصل ہوئے ہیں۔نئے سرکاری ملازمین سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ انہیں صرف سرکاری ملازم نہیں بلکہ قوم کی ترقی کے سپاہی کے طور پر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو عوامی خدمت، شفافیت اور ایمانداری کے جذبے کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھانی چاہئیں تاکہ ترقی کا فائدہ ملک کے آخری فرد تک پہنچ سکے۔انہوں نے ’ائر آف بزنس‘پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نئے سرکاری ملازمین کو کاروبار اور صنعت کیلئے آسان ماحول پیدا کرنے میں بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ سرمایہ کاری بڑھے، صنعتیں قائم ہوں اور مزید روزگار پیدا ہو سکے۔وزیر اعظم نے آخر میں کہا کہ بھارت آج ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے جہاں نوجوان ملک کی سب سے بڑی طاقت ہیں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ ہندوستانی نوجوان اپنی صلاحیت، محنت اور اختراعی سوچ کے ذریعے نہ صرف بھارت بلکہ پوری دنیا میں اپنی شناخت قائم کریں گے اور 2047 تک ترقی یافتہ بھارت کے خواب کو حقیقت میں بدلنے میں مرکزی کردار ادا کریں گے۔










