وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے رائیل سپرنگس گالف کورس کی نویں گورننگ باڈِی میٹنگ کی صدارت کی

وزیراعلیٰ نے آر ایس جی سی ترقیاتی منصوبے کا جائزہ لیا، سیاحوں، کارپوریٹ اِداروں اور ویک اینڈ گالفرز کو راغب کرنے کیلئے بہتر سہولیات اور گالف کورس کی مؤثر دیکھ ریکھ پر زور دیا

سری نگر//وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ایس کے آئی سی سی میں رائیل سپرنگس گالف کورس (آر ایس جی سی) کی نویں گورننگ باڈِی میٹنگ کی صدارت کی جس میں گولفنگ کے اہم مقام کے کام کاج ، بنیادی ڈھانچے، مالی صورتحال اور مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔میٹنگ میں وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی اور گورننگ باڈِی کے ارکان نے شرکت کی جن میں چیف سیکرٹری اَتل ڈولو، وزیر اعلیٰ کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری دھیرج گپتا، ایڈیشنل چیف سیکرٹری سیاحت آشیش چندر ورما، ایڈیشنل چیف سیکرٹری خزانہ شیلندر کمار، کمشنر سیکرٹری منصوبہ بندی، ترقی و نگرانی ایلس ویز، سیکرٹری رائیل سپرنگس گالف کورس حارث احمد ہنڈو اور ڈائریکٹر ٹورازم کشمیر سیّد قمر سجاد شامل تھے۔سیکرٹری رائیل سپرنگس گالف کورس حارث احمد ہنڈو نے گورننگ باڈِی کو ایک تفصیلی پرزنٹیشن پیش کی جس میں گزشتہ میٹنگوں کے فیصلوں پر عمل درآمد، گالف کورس کی مالی و اِنتظامی کارکردگی، رُکنیت کی پروفائل، بنیادی ڈھانچے کی ضروریات اور مستقبل کی ترقی و توسیع کے لئے تجویز کردہ حکمت عملیوں کو بھی اُجاگر کیا گیا۔گورننگ باڈِی نے حاصل شدہ پیش رفت کا جائزہ لیا اور گالف کورس کی سہولیات کو مزید مضبوط بنانے اور مجموعی کام کاج کو بہتر بنانے کے لئے مختلف اَقدامات پر غور کیا۔ میٹنگ میں ماہر کنسلٹنٹوں کی خدمات حاصل کرکے گالف کورس کی بحالی و تزئین و آرائش، نئے گالف ممبران کی شمولیت، جنگلی جانوروں کی مداخلت سے تحفظ کے لئے قدرتی ماحول سے ہم آہنگ خوبصورت بائونڈری وال کی تعمیر، ہٹس کی مرمت، صاف توانائی کے فروغ اور بجلی کے اَخراجات میں کمی کے لئے سولرائزیشن، کلب کی سہولیات خصوصاً جمنازیم، سوئمنگ پول اور ریسٹورنٹ کی بہتری اور آمدنی میں اضافے کے لئے نرخوںپر نظرثانی جیسے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیراعلیٰ نے گالف کورس میں خدمات، سہولیات اور سیاحوں کے مجموعی تجربے کو بہتر بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ اُنہوں نے ٹرف مینجمنٹ میں منظور شدہ اِنجینئرنگ معیارات پر عمل کرنے اور عالمی سطح کے معیار کے مطابق اعلیٰ معیاری گرینز اور فیئر ویز کو یقینی بنانے پر زور دیا۔اُنہوں نے گالف کورس کے بنیادی ڈھانچے اور سہولیات کی اپ گریڈیشن پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ویک اینڈ گالفرز، کارپوریٹ گروپس، سیاحوں اور گالف سے دلچسپی رکھنے والوں کو راغب کیا جا سکے گا اور اس مقام کو ایک ممتاز تفریحی اور گالفنگ منزل کے طور پر فروغ ملے گا۔میٹنگ میں ملازمین کی فلاح و بہبود، سروس معاملات، بھرتی قوانین، مالیاتی اِنتظام اور اِدارہ جاتی مضبوطی سے متعلق تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔ آپریشنل کارکردگی بہتر بنانے، خدمات کے معیار کو بلند کرنے اور جموں و کشمیر میں گالف ٹوراِزم کے فروغ کے لئے مختلف اَقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔وزیراعلیٰ نے رائل سپرنگس گالف کورس کو ملک کے بہترین گالف مراکز میں سے ایک قرار دیتے ہوئے محکمہ سیاحت اور آر ایس جی سی انتظامیہ کو ہدایت دی کہ گالف کورس کی بحالی اور جدید خطوط پر اُستوار کرنے کے لئے ایک جامع روڈ میپ تیار کیا جائے۔اُنہوں نے گالف کورس مینجمنٹ، ٹرف مینی ٹیننس اور مہمان نوازی کی خدمات میں بہترین عالمی طریقہ کار اپنانے پر زور دیا تاکہ ملکی اور بین الاقوامی گالفروں کے لئے اس کی کشش مزید بڑھے۔ اُنہوں نے مالی استحکام کو یقینی بنانے کے لئے دیرپا ذرائع آمدن تلاش کرنے کی بھی ہدایت دی جبکہ خدمات کے معیار اور اِنفرادیت کو برقرار رکھنے پر زور دیا۔وزیراعلیٰ نے جموں و کشمیر میں گالف ٹورازم کے وسیع امکانات کو اُجاگر کرتے ہوئے آر ایس جی سی اِنتظامیہ کو قومی و بین الاقوامی ٹورنامنٹوں کے انعقاد، تشہیری سرگرمیوں میں اضافہ اور جموں و کشمیر کو عالمی سطح پر ایک نمایاں گالف منزل کے طور پر متعارف کرنے کے لئے جامع حکمت عملی تیار کرنے کی ہدایت دی۔اُنہوں نے مزید کہا کہ گالف کورس میں مستقبل کے تمام ترقیاتی اَقدامات ماحولیاتی دیرپائی، مالیاتی سمجھداری اور طویل مدتی اِدارہ جاتی فائدے کے اَصولوں کے مطابق ہونے چاہئیں۔ اُنہوں نے پیشہ ورانہ اِنتظام اور مؤثر خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے ملازمین کی فلاح و بہبود، سکل اَپ گریڈیشن اور صلاحیت سازی کی اہمیت پر بھی زور دیا۔گورننگ باڈی نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ تخمینوں اور ایکشن پلان کا جائزہ لیا اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری، سیاحتی سہولیات میں اضافہ اور جموں و کشمیر میں گالف ٹورازم کی ترقی کے مزید مواقع پیدا کرنے سے متعلق حکمت عملیوں پر تبادلہ خیال کیا۔میٹنگ ایجنڈے کے نکات پر تفصیلی غور و خوض اور قائم کردہ طریقہ کار کے مطابق مختلف تجاویز کو آگے بڑھانے کی ہدایات کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔