مقامی لوگوں کاعوامی مقامات کے بجائے گھروں، باغات اور کوچوں میں تنصیب کا الزام
سرینگر// یو این ایس// محکمہ دیہی ترقی کی جانب سے واگورہ بلاک کے مختلف علاقوں میں نصب کی گئی سولر لائٹوں کے قلیل مدت میں ناکارہ ہونے پر مقامی لوگوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔یو این ایس کے مطابق مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ عوامی سہولت اور دیہی علاقوں میں رات کے اوقات روشنی کی فراہمی کے مقصد سے نصب کی گئی متعدد سولر لائٹیں چند ہی ماہ کے اندر خراب ہوگئی ہیں، جس کے نتیجے میں ان پر خرچ ہونے والی سرکاری رقم ضائع ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ لوگوں کے مطابق بیشتر مقامات پر نصب لائٹیں یا تو مکمل طور پر بند پڑی ہیں یا پھر مطلوبہ روشنی فراہم نہیں کر رہیں۔علاقہ مکینوں نے الزام عائد کیا کہ سولر لائٹوں کی تنصیب کے دوران شفافیت کا فقدان رہا اور انہیں عوامی ضرورت اور ترجیحات کو نظر انداز کرتے ہوئے بعض مخصوص اور بااثر افراد کے گھروں، باغات اور ذاتی کوچوں کے نزدیک نصب کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان لائٹوں کو دیہات کے اہم چوراہوں، گلی کوچوں، عوامی مقامات، تعلیمی اداروں، قبرستانوں اور مذہبی مقامات کے اطراف نصب کیا جاتا تو زیادہ سے زیادہ لوگ اس سہولت سے مستفید ہوسکتے تھے۔مقامی لوگوں کے مطابق واگورہ بلاک کے ہائیگام، بلہ گام، چند کوٹ، پنزی پورہ، چھور اور دیگر کئی علاقوں میں سولر لائٹوں کی تنصیب کے حوالے سے عوامی مفاد کو نظر انداز کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ متعلقہ حکام نے منصوبے پر عمل درآمد کے دوران غیر جانبداری کا مظاہرہ کرنے کے بجائے بعض پسندیدہ افراد کو فائدہ پہنچایا، جس کی وجہ سے عام لوگوں میں ناراضگی پائی جارہی ہے۔علاقہ مکینوں نے کہا کہ حکومت دیہی علاقوں کی ترقی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے کروڑوں روپے خرچ کررہی ہے، تاہم اگر منصوبوں کی نگرانی مؤثر انداز میں نہ کی جائے تو عوام کو مطلوبہ فائدہ نہیں پہنچ پاتا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ناکارہ سولر لائٹوں کی فوری مرمت کی جائے اور اس بات کی بھی تحقیقات کی جائیں کہ تنصیب کے دوران کن اصولوں اور معیاروں کو مدنظر رکھا گیا تھا۔لوگوں نے ضلع انتظامیہ اور محکمہ دیہی ترقی کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ منصوبے کی مکمل جانچ کرائی جائے اور اگر کسی قسم کی بے ضابطگی یا جانبداری ثابت ہوتی ہے تو ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔اس سلسلے میں جب کمشنر سیکریٹری دیہی ترقی و پنچایتی راج اعجاز اسد کا موقف جاننے کے لیے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی گئی تو ان سے رابطہ نہیں ہوسکا۔ تاہم عوام نے امید ظاہر کی کہ متعلقہ حکام اس معاملے کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے ضروری اقدامات کریں گے۔










