سرینگر / /جموں کشمیر میں سیاحتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کی کوششوں کے بیچ شمالی کشمیر کا علاقہ وادی گریز سیاح کی نئی پسند بن چکی ہے ۔ امسال اپریل سے پانچ ہزار سے زائد سیاح شمالی کشمیر کے گریز میں جا چکے ہیں اور آنے والے مہینوں میں مزید سیاحوں کی آمد متوقع ہے۔سی این آئی کے مطابق وادی کشمیر میں جہاں ان دنوں سیاحتی سرگرمیاں عروج پر ہے وہیں بانڈی پورہ کا گریز علاقہ سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن چکی ہے ۔ سیاحوں کی ایک اچھی خاصی تعداد گریز کا ان دنوں سفر کرکے وہاں قدرتی نظارو ں سے لطف اندوزہو رہے ہیں ۔ معلوم ہوا ہے کہ امسال ماہ اپریل تک قریب پانچ ہزار سے زائد سیاحوں نے گریز کا رخ کیا ہے ۔ ضلعی انتظامیہ کے ایک سینئر اہلکار نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ 2020 میں صرف 352 سیاحوںنے گریز کا رخ کیا جبکہ 2021 میں سول اور فوج انتظامیہ کی بھرپور کوششوں سے تقریباً 15000 سیاحوںنے گریز کا رخ کیا۔انہوں نے کہا کہ اپریل 2022 سے تقریباً 5000 سیاح وادی گریز کا دورہ کر چکے ہیں۔خاص طور پر ایل او سی کے ساتھ سیاحت نے 2020 میں اس وقت زور پکڑنا شروع کیا جب پڑوسی ممالک ہندوستان اور پاکستان نے جنگ بندی کے معاہدے کے ساتھ الحاق کرنے پر اتفاق کیا۔ اس کے بعد سے ٹریکرز، مقامی اور غیر مقامی دونوں طرح کے سیاحوں نے گریز اور لائن آف کنٹرول کے دیگر علاقوں میں آنا شروع کیا جس نے انتظامیہ کو وادی میں سرحدی سیاحت کو فروغ دینے پر کام کرنے پر توجہ مرکوز کرائی ۔ایک مقامی عرفان احمد نے کہا کہ سیاحتی سرگرمیوں نے سرحدی باشندوں کو امید دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے گھر سیاحوں کے لیے کھولے ہیں کیونکہ اس سے ہمیں روزگار کے مواقع ملتے ہیں۔ڈپٹی کمشنر بانڈی پورہ،ڈاکٹر اویس احمد نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ نے سیاحت کے فروغ کو ترجیحی بنیادوں پر لیا ہے اور اس سلسلے میں ماضی میں کئی پروموشنل تقریبات کا انعقاد کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا’’ضلعی انتظامیہ اپنی پوری کوشش کر رہی ہے کہ گریز کو ایک لازمی مقام بنایا جائے تاکہ یہ نہ صرف اس منزل کو لائم لائٹ میں لائے بلکہ نوجوانوں کے لیے روزی روٹی بھی پیدا کرے‘‘۔










