وادی میں کھیتوں کیلئے آبپاشی سہولیات کی عدم دستیابی پر نیشنل کانفرنس کا اظہارتشویش

سرینگر//نیشنل کانفرنس کے اراکین پارلیمان ایڈوکیٹ محمد اکبر لون اور جسٹس (ر) حسنین مسعودی نے دھان کی پنیری اور فصلوں کو آبپاشی کی سہولیات نہ ملنے پر زبردست تشویش کا اظہار کیا ہے اور صوبہ کشمیر کے کاشت کار اور زمین دار نہایت پریشان اور مایوسی کے شکا رہوگئے ہیں کیونکہ اُن کو فصلوں کیلئے بھر پور آبپاشی سے سہولیات دستیاب نہیں رکھیں گئیںہیں۔انہوں نے کہا کہ گذشتہ برسوں کے دوران گورنر انتظامیہ خصوصاً آبپاشی اور فلڈ کنٹرول محکموں نے آبپاشی نہروں اور کوہلوں کو یکسر نظر انداز کر رکھا ہے، جس کی وجہ سے کھیتوں کیلئے آبپاشی کی سہولیات نہیں دن بہ دن کم ہوتی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں وقت وقت پر آبپاشی نہروں اور کوہلوں کی ڈریجنگ، صفائی اور مرمت ہوا کرتی تھی اور کسانوں کو بھی آبپاشی کی سہولیات آسانی سے میسر رہا کرتی تھی لیکن گذشتہ کئی برسوں میں ایسا کوئی بھی عمل نہیں ہورہا ہے اور آبپاشی کے یہ ذرائع دن بہ دن سکڑتے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زراعت کے شعبے کیساتھ جموں وکشمیر کی ایک بہت بڑی آبادی وابستہ ہے اور یہ شعبہ یہاں کی معیشت کا اہم ستون رہا ہے لیکن ایسا محسوس ہورہاہے کہ ایک منصوبہ بند سازش کے تحت اس شعبہ کو ختم کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں اور اس شعبے سے وابستہ کسانوں اور کاشتکاروں کو محتاج بنانے کے منصوبے پر کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری محکموں کے غفلت شعاری نے شعبہ زراعت کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے، جو ایک لمحہ فکریہ ہے۔ مسعودی نے متعلقہ محکموں پر زور دیا کہ وہ خواب غفلت سے جاگ کر جنگی بنیادوں پر دھان کی فصلوں کے کھیتوں کی آبپاشی کیلئے ٹھوس اقدامات کریں۔