سرینگر میں موسم کی دوسری برفباری ، ہوائی اڈے سے 12پروازیں منسوخ
سرینگر//وادی کشمیر میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں سے میدانی علاقوں میں بارش اور بالائی علاقوں میں برفباری جاری رہنے کے بیچ سرینگر میں سیزن کی دوسری برفباری منگل صبح سے ہی جاری رہے ۔ جبکہ سرینگر میں برفباری کے نتیجے میں ہوائی اڈے سے 12فلائٹس منسوخ ہوئیں ہیں ۔ ادھر وادی کے اہم شاہرائیں بھی بھاری برفباری کے بعد سے بند ہے ۔ادھر رواں موسم سرماء کے آخری عشرہ کی شروعات آج رات سے ہورہا ہے تاہم آخری دس دنوں پر مبنی چلہ بچہ نے شروع میں ہی اپنے زور دکھانے شروع کردیئے ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق سرینگر شہر میں منگل کو موسم سرما کی دوسری برف باری ہوئی جبکہ وادی کشمیر کے بالائی علاقوں میں گزشتہ 48 گھنٹوں سے بھاری برفباری جاری ہے ۔ ادھر محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ 21فروری سے موسم میں بہتری آنے کا امکان ہے ۔ وی او آئی سٹی رپورٹر کے مطابق سرینگرمیں اتوار کی صبح سے ہی بارشیں شروع ہوئی جو منگل کی صبح تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کے بعد منگل کو برفباری ہوئی ۔ ادھر گلمرگ، سونمرگ، شوپیاں، گریز، مچل اور وادی کے دیگر پہاڑی علاقوں سے بھاری برف باری کی اطلاع ملی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق گلمرگ میں گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران تقریباً 2.5 فٹ تازہ برف باری ہوئی ہے۔سادھنا ٹاپ پر 5فٹ برفباری ریکارڈ کی گئی جبکہ تلیل گریز میں چار فٹ ، سونہ مرگ میں 4.5فٹ برفبارئی ریکارڈ کی گئی ہے ۔ سری نگر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 29 ملی میٹر بارش ہوئی ہے جبکہ قاضی گنڈ میں 76.8 ملی میٹر بارش ہوئی ہے۔پہلگام (40.1 ملی میٹر)، کپواڑہ (41.9 ملی میٹر) اور کوکرناگ (26.0 ملی میٹر) میں بھی اسی مدت میں کافی بارش ہوئی۔جموں خطہ میں بھی بارش ہوئی ہے، جس کی وجہ سے رام بن ضلع میں کئی مقامات پر مٹی کے تودے گرنے کی وجہ سے سری نگر جموں قومی شاہراہ بند ہو گئی ہے۔ دریں اثناء گزشتہ روز بارش اور برفباری کے ساتھ تیز ہوائیں چل رہی ہیں جس کے نتیجے میں وادی میں کئی مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔تیز ہواؤں سے ٹین کی چھتوں کے اڑ جانے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں۔دریں اثناء منگل کو خراب موسم کی وجہ سے سری نگر ہوائی اڈے پر 12 پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔سری نگر کے ہوائی اڈے کے ڈائریکٹر نے بتایا کہ انڈیگو ایئر لائن کی تمام (12) پروازیں 1400 بجے سے 2000 بجے تک خراب موسم کی وجہ سے منسوخ کر دی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ رات 8 بجے کے بعد یا کل پروازوں کے بارے میں فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔










