میدانی علاقوں میں درجہ حرارت 34ڈگری تک بڑھے گا
سرینگر//جموں کشمیر میں اگلے تین دنوں میں گرمی کی شدت میں اضافہ کا امکان ظاہر کرتے ہوئے محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ دن کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 34ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ سکتا ہے ۔ ادھر ماہرین نے کہا ہے کہ ’’ہیٹ ویو‘‘ کے پیش نظر لوگوں کا احتیاط برتنا چاہئے اور کھلی دھوپ میں کام کرنے سے بچنا ضروری ہے کیوں کہ اس سے ہیٹ سٹروک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔ جبکہ بچوں اور بزرگوں کو بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ سخت گرمی کے دوران اپنے ہی گھروں میں رہنے کو ترجیح دیں۔ وائس آف انڈیا کے مطابق جموں کشمیر میں اگلے تین دنوں تک گرمی کی شدت میں اضافہ ہوسکتا ہے ۔ موسمی حکام نے بالخصوص جمعرات اور جمعہ کو غیر معمولی طور پر زیادہ درجہ حرارت کی پیش گوئی کی ہے۔محکمہ کے مطابق وادی کشمیر کے میدانی علاقوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آنے کا امکان ہے، زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 34 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔محکمہ کے مطابق درجہ حرارت میں اضافہ ریکارڈ توڑ سکتا ہے کیوں کہ عام طور پر مئی کے مہینے میں درجہ حرارت اس قدر نہیں بڑھتا ۔ادھر موسمیات کے ماہرین نے ممکنہ گرمی کے تناؤ سے متعلق ایڈوائزری جاری کی ہے، خاص طور پر بچوںعمر رسیدہ افراد اور صحت کے مسائل میں مبتلا افراد سے کہا گیا ہے کہ وہ گرمی سے بچنے کیلئے اپنے ہی گھروں میں رہنے کو ترجیح دیں۔ جبکہ درجہ حرارت نے کسانوں اور باغبانوں میں تشویش کی لہر دوڑادی ہے ۔ جنہیں خدشہ ہے کہ اگر موسم مزید بڑھتا ہے تو گرمی فصلوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔محکمہ موسمیات کے ایک سینئر اہلکار نے بتایا کہ یہ کشمیر میں مئی کا عام موسم نہیں ہے۔ آنے والے دنوں میں ہم جس درجہ حرارت کی توقع کر رہے ہیں وہ جولائی میں موسم گرما کے زیادہ ہونے کی خصوصیت ہے۔محکمہ نے لوگوں کو ہائیڈریٹ رہنے، دن کے اوقات میں براہ راست دھوپ سے گریز کرنے اور ہیٹ ویو کے اثرات کو کم کرنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ادھرحکام صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور انہوں نے لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ آنے والے دنوں میں موسم کی سرکاری اپ ڈیٹس اور حفاظتی مشوروں پر عمل کریں۔ دریں اثناء ماحولیاتی آلودگی جے موسمی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں جیسے کہ مئی کے مہینے میں درجہ حرارت میں اضافہ اضافہ نہیں ہوتا تھا لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ گزشتہ دنوں جموں اور وادی کشمیر میں معلوم سے کئی ڈگری زیادہ درجہ حرارت رہا ۔درجہ حرارت میں مزید اضافہ ہونے کی پیش گوئی کرتے ہوئے ماہرین نے کہا ہے کہ رواں برس عالمی سطح پر گرمی بڑھے گی اور اس کے اثرات جموں کشمیر پر بھی مرتب ہورہے ہیں ۔ یہ صورتحال پریشان کن ہے ۔ موسمیاتی تبدیلی کی بڑی وجہ ماحولیاتی آلودگی اور جنگلات کا بے تحاشہ کٹائو مانا جاتا ہے ۔ ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے ہمالیائی خطے میں گلیشر تیزی سے پگھل رہے ہیں ۔ بے وقت بارش اور شدید ژالہ باری ہوتی ہے اور طویل خشک سالی یہ سب جنگلات کا کٹائو اور درختوں کا کم ہونا ہے ۔ وادی کشمیر میں گزشتہ روز درجہ حرارت 32ڈگری سے تجاوز کرگیا جبکہ جموں میں پارہ 40ڈگرے کے پار ہوگیا اور اگر اس وقت یہ صورتحال ہے تو جون ، جولائی میں درجہ حرارت کس قدر بڑھے گیا یہ سوچنے والی بات ہے ۔ ،شدید گرمی، نہ صرف روزمرہ زندگی کو متاثر کر رہی ہے بلکہ صحت پر بھی منفی اثرات ڈال رہی ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی اور شدید ’’ہیٹ ویو‘‘کی وجہ سے لوگوں کو مختلف جسمانی و ماحولیاتی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جن میں پانی کی کمی، جلدی امراض، لو لگنے، اور فصلوں کو نقصان جیسے مسائل شامل ہیں۔آپ کو یادہوگا کہ عام طور پر ماہ مئی میں اس طرح درجہ حرارت میں اضافہ نہیں ہوتا ہے اور وادی میں مئی کے مہینے میں زیادہ تر بارشیں ہوتی ہیں لیکن امسال معاملہ کو الگ لگ رہا ہے ۔ ماہرین نے کہا ہے کہ گرمی میں اور اضافہ ہوسکتا ہے ۔ یہ صورتحال ایک سنجیدہ مسئلہ بنتی جا رہی ہے جس کے حل کے لیے ماہرین نے عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی صلاحدی ہے تاکہ وہ شدید گرمی کے منفی اثرات سے محفوظ رہ سکیں۔ ماہرین کے مطابق اس شدت کی گرمی میں کئی طرح کے طبی مسائل بھی پیدا ہوسکتے ہیں جن میں جسم میں پانی کی کمی ہونے سے چکر، کمزوری، اور متلی کی شکایات بڑھ جاتی ہیں۔شدید گرمی میں زیادہ دیر باہر رہنے سے ’’ہیٹ اسٹروک‘‘ کا خطرہ پیدا ہوتا ہے، جو بعض اوقات جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ زیادہ پسینے کی وجہ سے جلدی انفیکشن، الرجی اور دیگر بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ گرمی کی شدت سے بلڈ پریشر بڑھ سکتا ہے اور دل کے مریضوںکو مزید پیچیدگیاں لاحق ہو سکتی ہیں۔مجموعی طور پر درجہ حرارت میں اضافہ کئی طرح کی پریشانیوں کو ساتھ لائے گا۔ اسلئے ہمیں اس بات کو سنجیدگی سے لینا ہوگا اور ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے کیلئے زمینی سطح پر اقدامات اُٹھانے ہوں گے ۔ جنگلات کے تحفظ کو یقینی بنانا ہوگا اور زیادہ سے زیادہ درخت لگانے کی کوشش کرنی چاہئے اگر ہم ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے میں کامیاب نہیں ہوں گے تو عین ممکن ہے کہ یہ آگے چل کر ایک بڑی تباہی کا باعث بن سکتا ہے ۔










