سری نگر//سیکرٹری زرعی پیداوار محکمہ (اے پی ڈِی) نیتا گپتا نے ڈائریکٹوریٹ آف ایگری کلچر لال منڈی میں یوٹی کیپکس بجٹ 2026-27 ، نبارد ، جامع زرعی ترقیاتی پروگرام(ایچ اے ڈِی پی)،جے کے سی آئی پی ، سی ایس ایس اور ایس اے ایس سی آئی کے تحت صوبہ کشمیر میں مختلف پروگراموں کی کارکردگی اور عمل آوری کا جائزہ لینے ک یلئے ایک جامع جائزہ میٹنگ کی صدارت کی۔میٹنگ میں ڈائریکٹر ایگری کلچر کشمیر سرتاج احمد شاہ، ڈائریکٹر کمانڈ ائیریا ڈیولپمنٹ کشمیر، ڈائریکٹر پلاننگ ایگری کلچر پروڈکشن ڈیپارٹمنٹ ، ڈائریکٹر فائنانس سکاسٹ کشمیر ، چیف ایگری کلچر اَفسران اور محکمہ دیگر سینئر اَفسران نے شرکت کی۔میٹنگ میں کیپکس، مرکزی معاونت والی سکیموں (سی ایس ایس)،جامع زرعی ترقیاتی پروگرام (ایچ اے ڈی پی) اور نبارڈ کے تحت محکمہ کی ترقی اور کارکردگی پر توجہ مرکوز کی گئی جس میں مختلف جاری مداخلتوں کی طبعی و مالی کامیابیوں، اخراجات، اہداف اور عمل آوری کی صورتحال پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔سیکرٹری نے کلیدی پروجیکٹوں اور سکیموں کی پیش رفت کا جائزہ لیا اوربر وقت پر تکمیل، مؤثر نگرانی اور فنڈز کے زیادہ سے زیادہ استعمال کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ان مداخلتوں کے مطلوبہ فوائد کاشتکار کمیونٹی تک پہنچ سکیں۔نیتا گپتا نے اَفسران پر زور دیا کہ وہ نتیجہ خیز اور کسان مرکوز طرز عمل اَپنائیں، فیلڈ سطح کی نگرانی کو مضبوط بنائیں اور ترقیاتی پروگراموں کی تیز رفتار عمل آوری کے لئے تمام متعلقہ شراکت دارون کے درمیان قریبی تال میل کو یقینی بنائیں۔اِس سے قبل سیکرٹری نے سکاسٹ کشمیر، کمانڈ ائیریا ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ اور سری کلچر ڈیپارٹمنٹ کے کام کاج اور کارکردگی کا بھی جائزہ لیا جس میں ان کے متعلقہ پروگراموں، حصولیابیوں اور عمل آوری کے چیلنجوں کا جائزہ لیا گیا۔ جائزہ میٹنگ کے دوران محکمہ زراعت اور متعلقہ اداروں کے درمیان ہم آہنگی کو مضبوط بنانے، ٹیکنالوجی پر مبنی مداخلتوں کو فروغ دینے، خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے اور کسانوں پر مبنی پروگراموں کی مؤثر عمل آوری کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔ ڈائریکٹر ایگری کلچر کشمیر نے سیکرٹری کو محکمہ کی مجموعی کارکردگی سے آگاہ کیا اورانہیں مختلف سکیموں اور اَقدامات کے تحت ہونے والی پیش رفت کے بارے میںآگاہ کیا۔ اِس کے علاوہ فیلڈ سطح پر عمل آوری کو مزید تیز کرنے کے لئے اُٹھائے جانے والے اقدامات پر روشنی ڈالی۔سیکرٹری نے متعلقہ اَفسران کو ہدایت دی کہ وہ باقاعدہ نگرانی برقرار رکھیں، اہداف کی بروقت تکمیل کو یقینی بنائیں اور بین محکمہ جاتی ہم آہنگی کو مضبوط بنائیںجس کا واضح مرکز زرعی پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانا، کسانوں کی مدد کرنا اور خطے بھر میں دیرپامعاش کے مواقع پیدا کرنا ہو۔اُنہوں نے اِس بات کا اعادہ کیاکہ ترقیاتی پروگراموں کی مؤثر عمل آوری، مضبوط فیلڈ لیول کوآرڈی نیشن اور جوابدہی کے ساتھ مل کر، حکومتی اقدامات کو کاشتکار کمیونٹی کے لئے ٹھوس فوائد میں تبدیل کرنے کے لئے ضروری ہے۔










