کشمیر میں فلموں کی شوٹنگ سے روزگار کے نئے مواقع

کشمیر میں فلموں کی شوٹنگ سے روزگار کے نئے مواقع

نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے ذرائع پیدا ہوں گے/وزیراعلی

سری نگر//یو این ایس / وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ کشمیر میں فلموں کی شوٹنگ دوبارہ شروع ہونے سے مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور خطے کی معیشت کو فروغ ملے گا۔شیخ العالم بین الاقوامی کنونشن سینٹر (ایس کے آئی سی سی) سری نگر میں منعقد ہونے والے پہلے بین الاقوامی فلم فیسٹیول جموں و کشمیر کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ حکومت فلمی صنعت کو کشمیر کے ساتھ اس کے دیرینہ تعلق کی یاد دلانے کی کوشش کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ فلموں کی شوٹنگ دوبارہ کشمیر میں شروع ہو اور فلم ساز و پروڈیوسر ایک مرتبہ پھر وادی کو اپنی فلموں کی شوٹنگ کے لیے ترجیح دیں۔ ان کے مطابق اس سے مقامی سطح پر روزگار پیدا ہوگا اور معیشت کو بھی فائدہ پہنچے گا۔عمر عبداللہ نے کہا کہ کشمیر سوئٹزرلینڈ اور دیگر غیر ملکی مقامات کے فلمی صنعت کے لیے مقبول ہونے سے بہت پہلے بھارتی فلموں کی شوٹنگ کا ایک اہم مرکز رہا ہے۔ حکومت اب فلم سازوں کو کشمیر کی اس پرانی وابستگی اور خوبصورتی کی یاد دلانے کی کوشش کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ جامع جموں و کشمیر فلم پالیسی کے تحت حکومت نے خطے کو فلم سازوں کے لیے سازگار مقام بنانے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں۔ اس پالیسی کے تحت فلم کی شوٹنگ کے دنوں اور مقامی سطح پر ہونے والے اخراجات کی بنیاد پر مالی مراعات اور سبسڈی فراہم کرنے کا انتظام کیا گیا ہے۔فلم سازوں کو مقامات کی منظوری اور سکیورٹی اجازت ناموں کے لیے ایک مخصوص آن لائن پورٹل کے ذریعے یکجا اجازت نامے حاصل کرنے کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ایسی فلمی پروڈکشنز کے لیے اضافی مراعات کا بھی انتظام ہے جو مقامی فنکاروں، تکنیکی ماہرین اور دیگر عملے کو روزگار فراہم کریں۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت فلمی صنعت کو صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک باقاعدہ صنعت کے طور پر دیکھتی ہے، جو روزگار پیدا کرنے، نوجوان صلاحیتوں کو فروغ دینے اور مختلف ثقافتوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کشمیر میں کیمرہ مین، فلم پروڈکشن کے منتظمین، صوتی ماہرین اور اداکاروں سمیت مختلف شعبوں میں مقامی افرادی قوت تیار کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ فلموں کی تکمیل کے بعد کے مراحل کی سہولیات، آلات کے مراکز، اسٹوڈیوز اور فلمی تعلیم کے اداروں کے قیام پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔عمر عبداللہ نے فلم سازوں پر زور دیا کہ وہ اپنی پروڈکشنز میں مقامی فنکاروں اور تکنیکی ماہرین کو زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کریں اور جموں و کشمیر کے بھرپور ثقافتی ورثے اور قدرتی حسن کو اپنی فلموں کے ذریعے دنیا کے سامنے پیش کریں۔فلم فیسٹیول میں شریک ملکی اور غیر ملکی مندوبین سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے فلم سازوں سے کہا کہ وہ اپنے ساتھی فلم سازوں کو بتائیں کہ جموں و کشمیر فلمی عملوں کے استقبال کے لیے تیار، محفوظ، متحرک اور پْرجوش ہے۔تین روزہ بین الاقوامی فلم فیسٹیول جموں و کشمیر کو جموں و کشمیر حکومت اور محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کی حمایت حاصل ہے۔ فیسٹیول میں 135 منتخب فلمیں شامل کی گئی ہیں اور اس کا اختتام 10 ستمبر کو ہوگا۔