6 مزید ماہرین نے خبردار کیا،سوشل میڈیا پر بحث گرم
سری نگر//یو این ایس / جدید مصنوعی ذہانت کے ممکنہ خطرات کے حوالے سے سابق اینتھروپک اور اوپن اے آئی محقق جیکب کوکسن کی تشویش کے بعد گزشتہ چار روز کے دوران مزید چھ موجودہ اور سابق اے آئی محققین نے بھی سنگین خدشات کا اظہار کیا ہے۔ ان سات ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ انتہائی طاقتور مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی انسانیت کے لیے تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔جیکب کوکسن، جنہوں نے دو روز قبل اینتھروپک سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا تھا، اس سے قبل تقریباً تین سال تک اوپن اے آئی اور اینتھروپک میں اے آئی کی تربیت سے متعلق تحقیق سے وابستہ رہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ انتہائی طاقتور اے آئی نظام تیار کرنے والی کمپنیاں خود کو بہتر بنانے والی انتہائی ذہین مصنوعی ذہانت کی جانب تیزی سے بڑھ رہی ہیں اور اس عمل میں انسانی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔اینتھروپک کے الائنمنٹ سائنس کے سربراہ ایون ہیوبنگر نے کوکسن کے خدشے کی کھل کر حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اے آئی پر کام کرنے والے محققین واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت رواں دہائی کے اختتام تک پوری انسانیت کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھ سکتی ہے۔اینتھروپک کے اسکیل ایبل اوور سائٹ شعبے سے وابستہ سیموئل مارکس نے بھی اے آئی سے لاحق خطرات پر تشویش ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اے آئی تیار کرنے والے افراد خود اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی انسانیت کے خاتمے یا اس جیسے انتہائی سنگین نتائج کا سبب بن سکتی ہے اور ایسا آئندہ چند برسوں میں بھی ممکن ہے۔گوگل ڈیپ مائنڈ کے سابق تحقیقی سائنس دان ایلکس ٹرنر نے بھی کوکسن کے موقف کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے محققین ایسی ٹیکنالوجی تیار کر رہے ہیں جو کر? ارض پر موجود تمام انسانوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ ٹرنر کے مطابق، اے آئی سے پیدا ہونے والے ان خطرات کو روکنے کے طریقوں پر غور کرنا ان کی ملازمت کا حصہ رہا تھا۔یہ خدشات صرف سابق ملازمین یا تحقیق کاروں تک محدود نہیں ہیں۔ اوپن اے آئی کے چیف سائنس دان جیکب پوچوکی نے بھی مشینی ذہانت میں تیزی سے ہونے والی پیش رفت کے دوران انتہائی احتیاط برتنے پر زور دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال انتہائی احتیاط کا تقاضا کرتی ہے اور انہیں تشویش ہے کہ مشینی ذہانت میں مسلسل تیز رفتار اضافے کے ممکنہ نتائج کے لیے کوئی بھی مکمل طور پر تیار نہیں ہے۔اوپن اے آئی کے محقق جیسن وولف نے بھی مصنوعی ذہانت سے انسانیت کو لاحق متعدد ممکنہ تباہ کن خطرات کی نشاندہی کی، تاہم انہوں نے انسانی نسل کے خاتمے کے امکان کے بارے میں کوئی مخصوص اندازہ پیش نہیں کیا۔وولف کے مطابق انہیں معلوم نہیں کہ انسانیت کے مکمل خاتمے کا امکان کتنا ہے، تاہم اے آئی کے کئی ایسے راستے موجود ہیں جن سے انسانیت کے لیے انتہائی خراب نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اے آئی کی موجودہ ’’خوفناک رفتار‘‘ کے پیش نظر انسانیت خوش قسمت ہوگی اگر وہ تمام ممکنہ تباہ کن نتائج سے بچنے کے لیے محفوظ راستہ تلاش کرنے میں کامیاب رہی۔گوگل ڈیپ مائنڈ کے سابق سینئر تحقیقی سائنس دان جوناتھن رچرڈ شوارز نے اے آئی کی دوڑ کے ایک اور پہلو پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ ان لیبارٹریوں میں ٹیکنالوجی اور طاقت کا ارتکاز معاشرے کے لیے سنگین مسئلہ بن سکتا ہے۔شوارز نے بتایا کہ وہ سات سال تک ڈیپ مائنڈ سے وابستہ رہے اور بعد میں دیگر بڑی اے آئی کمپنیوں میں شمولیت کی پیشکشیں بھی مسترد کردیں، کیونکہ انہیں ان اداروں میں طاقت کے ارتکاز پر شدید خدشات تھے۔ ان کے مطابق اے آئی کے شعبے میں اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے وہ معاشرے کے لیے انتہائی غیر صحت مند ہے۔اس طرح صرف چار روز کے دوران دنیا کی معروف اے آئی لیبارٹریوں سے براہ راست وابستہ رہنے والے سات افراد نے مصنوعی ذہانت کے تیز رفتار پھیلاؤ اور اس کے ممکنہ خطرات پر سنگین خدشات ظاہر کیے ہیں۔اگرچہ تمام ماہرین کے خدشات یکساں نہیں ہیں، تاہم کوکسن نے خود کو بہتر بنانے والی انتہائی ذہین اے آئی اور تیزی سے آگے بڑھتی ہوئی اے آئی دوڑ کو خطرناک قرار دیا ہے، جبکہ ہیوبنگر اور مارکس نے انسانی نسل کے خاتمے کے امکان کا ذکر کیا۔ پوچوکی اور وولف نے مشینی ذہانت میں تیز رفتار ترقی کے نتائج پر تشویش ظاہر کی، جبکہ شوارز نے اس صنعت میں طاقت کے بڑھتے ہوئے ارتکاز کو معاشرے کے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔










