455 غذائی نمونوں کا معائنہ، 35 میں ضوابط کی خلاف ورزی پائی گئی
سرینگر // فوڈ اینڈ ڈرگز ایڈمنسٹریشن (FDA) جموں و کشمیر نے یونین ٹیریٹری کے تمام اضلاع میں ایک خصوصی مہم چلائی جس کا مقصد غذائی مصنوعات کی لیبلنگ اور ڈسپلے سے متعلق مقررہ ضوابط کی پاسداری کا جائزہ لینا تھا۔مہم کے دوران 455 غذائی نمونوں کی جانچ پڑتال کی گئی، جن میں سے 35 نمونے لیبلنگ کے مقررہ تقاضوں کے مطابق نہیں پائے گئے۔کشمیر پریس سروس کے موصولہ اطلاعات کے مطابق متعلقہ فوڈ بزنس آپریٹرز (FBOs) کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں تاکہ وہ مقررہ مدت کے اندر ان خامیوں کو دور کر سکیں۔ ضوابط کی خلاف ورزی یا عدم تعمیل کی صورت میں قانون کے مطابق مزید کارروائی کی جائے گی۔یہ جانچ پڑتال ‘فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز (لیبلنگ اینڈ ڈسپلے) ریگولیشنز، 2020’ کے تحت کی گئی اور اس میں پیک شدہ غذائی مصنوعات شامل تھیں، جن میں مصالحے، خوردنی تیل، ڈیری مصنوعات، بیکری اور کنفیکشنری کی اشیاء، شہد، چاول، مشروبات، کافی، خشک میوہ جات اور دیگر غذائی اشیاء شامل ہیں۔لیبلز کا جائزہ لازمی تفصیلات کی تعمیل کے حوالے سے لیا گیا، جن میں خوراک کا نام اور نوعیت، اجزاء، غذائیت سے متعلق معلومات، بیچ/لاٹ نمبر، تیاری/پیکنگ کی تاریخ، ‘بہترین استعمال کی مدت’ (Best Before) یا ‘میعاد ختم ہونے کی تاریخ’ (Expiry Date)، زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت (MRP)، تیار کنندہ/پیک کرنے والے کی تفصیلات، FSSAI لائسنس/رجسٹریشن نمبر، سبزی خور/غیر سبزی خور ہونے کا لوگو اور دیگر مقررہ تفصیلات شامل ہیں۔اس جانچ پڑتال میں ‘فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز (ایڈوٹائزنگ اینڈ کلیمز) ریگولیشنز، 2018’ کے تناظر میں غذائی لیبلز پر موجود صحت، غذائیت اور دیگر دعووں کا جائزہ بھی لیا گیا۔ متعلقہ فوڈ بزنس آپریٹرز (FBOs) کو ہدایت کی گئی کہ وہ ایسے دعووں کو ہٹا دیں یا درست کریں جو گمراہ کن پائے گئے یا جو لاگو ضابطہ جاتی تقاضوں کے مطابق نہیں تھے۔جہاں خلاف ورزیاں ثابت ہوں گی، وہاں ‘فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز ایکٹ، 2006’ کی متعلقہ دفعات کے تحت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔ سیکشن 52 کے تحت غلط لیبلنگ والی خوراک (misbranded food) پر 3 لاکھ روپے تک جرمانے کی گنجائش ہے، جبکہ سیکشن 53 کے تحت گمراہ کن اشتہارات پر 10 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔ غلط معلومات فراہم کرنے پر سیکشن 61 کے تحت 10 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔متعلقہ نامزد افسران اور فوڈ سیفٹی افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ FBOs کی جانب سے تعمیل کو یقینی بنائیں اور جہاں بھی ایکٹ کی دفعات کے تحت ضروری ہو، مزید کارروائی شروع کریں، بشمول عدالتی سماعت اور قانونی مقدمہ چلانا ہے۔










