دائر عرضی پر سپریم کورٹ نے مرکز سے جواب طلب کرلیا
سرینگر/یو این ایس / سپریم کورٹ نے نابالغ بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کے لیے حفاظتی اقدامات یقینی بنانے اور 18 سال سے کم عمر بچوں کے ساتھ کسی بھی ڈیجیٹل پلیٹ فارم کی جانب سے معاہدہ نہ کرنے کی ہدایت سے متعلق مفاد عامہ کی عرضی پر مرکزی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔چیف جسٹس آف انڈیا سوریا کانت، جسٹس جوی مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے اس معاملے میں الیکٹرانکس و اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت اور وزارت قانون و انصاف کو نوٹس جاری کیے۔ یہ عرضی غیر سرکاری تنظیم ’جسٹ رائٹس فار چلڈرن الائنس‘ کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔عرضی کی سماعت کے دوران تنظیم کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر وکیل ایچ ایس پھولکا کی مختصر گزارشات کا نوٹس لیتے ہوئے بنچ نے کہا کہ ’’بھارت میں کچھ حفاظتی اقدامات کی ضرورت ہے۔‘‘عرضی میں مرکز کو ہدایت دینے کی درخواست کی گئی ہے کہ وہ تمام ڈیجیٹل پلیٹ فارموں، بشمول سوشل میڈیا پلیٹ فارموں، کو آگاہ کرے کہ 18 سال سے کم عمر کسی بھی بچے کے ساتھ کیا جانے والا معاہدہ شروع ہی سے غیر مؤثر تصور کیا جائے گا اور ایسے معاہدے کی بنیاد پر اٹھائے جانے والے تمام اقدامات فوری طور پر روک دیے جائیں۔عرضی میں کہا گیا ہے کہ بھارتی معاہدہ ایکٹ کی دفعہ 11 کے تحت نابالغ شخص کو معاہدہ کرنے کی قانونی اہلیت حاصل نہیں ہے اور نابالغ کے ساتھ کیا گیا معاہدہ ابتدا ہی سے باطل ہوتا ہے۔ اس کے باوجود 18 سال سے کم عمر بچے آزادانہ طور پر سوشل میڈیا اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارموں پر اکاؤنٹس بنا کر ان کا استعمال کر رہے ہیں۔درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ بچوں کو مناسب عمر کی تصدیق اور والدین کی مؤثر نگرانی کے بغیر معاہداتی اور ڈیٹا پر مبنی ڈیجیٹل نظام کا حصہ بنانا محض ضابطہ جاتی خامی نہیں بلکہ اس سے بچوں کے آئینی حقوق کو بھی سنگین خطرات لاحق ہیں۔عرضی کے مطابق آن لائن پلیٹ فارموں پر بچوں کو آن لائن بہلا پھسلا کر جنسی استحصال، انسانی اسمگلنگ، رویوں میں جوڑ توڑ، ذاتی معلومات کے غلط استعمال، سائبر بْلنگ اور عمر کے لحاظ سے نامناسب مواد جیسے خطرات کا سامنا ہوسکتا ہے۔عرضی میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کی غیر منظم ڈیجیٹل رسائی بچوں کے زندگی، وقار، رازداری، تحفظ، صحت مند نشوونما اور مجموعی فلاح و بہبود کے بنیادی حقوق کو متاثر کرسکتی ہے۔ اس لیے ڈیجیٹل ماحول میں بچوں کے آئینی اور قانونی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات ضروری ہیں۔عرضی میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد کی تشہیر اور ذخیرہ کرنے پر سخت قانونی پابندیوں کے باوجود کئی انٹرنیٹ پلیٹ فارم خودکار مواد کی چھان بین اور عمر کی تصدیق کے مؤثر نظام نافذ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔درخواست میں خاص طور پر فیس بک اور اسنیپ چیٹ جیسے پلیٹ فارموں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت میں یہ پلیٹ فارم 13 سال کی عمر سے صارفین کو اکاؤنٹ بنانے کی اجازت دیتے ہیں، جبکہ بھارتی قانون کے تحت 18 سال سے کم عمر افراد نابالغ تصور کیے جاتے ہیں۔مفاد عامہ کی عرضی میں مرکز سے کہا گیا ہے کہ اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے عبوری رہنما اصول اور ڈیجیٹل میڈیا ضابط? اخلاق، 2021 میں ترمیم کی جائے یا خصوصی رہنما اصول وضع کیے جائیں، تاکہ 18 سال سے کم عمر بچے والدین یا قانونی سرپرست کی رضامندی کے بغیر کسی ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ساتھ معاہدہ نہ کرسکیں۔عرضی میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ نابالغ کو کسی ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے استعمال کی اجازت صرف اس صورت میں دی جائے جب والدین یا قانونی سرپرست کی باقاعدہ شمولیت کا قانونی طریقہ کار موجود ہو۔ اس میں والدین یا سرپرست کی شناخت اور ان کے قانونی اختیار کی تصدیق کے لیے ای-کے وائی سی سمیت مناسب اقدامات بھی شامل ہوں، خصوصاً ان خدمات کے لیے جہاں بچوں کو زیادہ خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔










