پہلگام حملے کے بعد سرحدی کشیدگی برقرار

نوشہرہ راجوری میں دراندازی کی ایک اور کوشش ناکام

فوج نے دو مسلح افراد کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا، بڑی مقدار میں ہتھیار ضبط

سرینگر///راجوری میں دراندازی کی ایک اور کوشش کو ناکام بنانے کا دعویٰ کرتے ہوئے فوج نے کہا کہ دو دراندازوں کو ہلاک کیا گیا ہے جن کے قبضے سے بڑے پیمانے پر اسلحہ و گولہ بارود برآمد کرلیا گیا ہے جس میں 2اے کے 47اور ایک پستول بھی شامل ہے ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق فوج نے دراندازی مخالف آپریشن کے دوران دو دراندازوںکو ہلاک کر دیا۔ اس کے علاوہ بھاری مقدار میں جنگی سامان بھی برآمد ہوا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ آپریشن ابھی جاری ہے۔فوجی ترجمان کے مطابق ہندوستانی فوج کو خفیہ ایجنسیوں اور جموں و کشمیر پولیس سے دراندازی کی ممکنہ کوشش کے بارے میں اطلاعات موصول ہوئیںجس کے بعد فوج نے 8 ستمبر کی آدھی رات کو لام اور نوشہرہ کے عام علاقے میں دراندازی مخالف آپریشن شروع کیا۔ اس دوران فوج نے وہاں مشکوک نقل و حمل کے بعد جوہیں انہیں رُکنے کا اشارہ کیا تو مسلح افراد نے تلاشی پارٹی پر گولیاں چلائی جس کے جواب میں دو عسکریت پسندوںکو مار گرایاگیا۔ فوجی ذرائع کے مطابق جھڑپ کی جگہ بھاری مقدار میں جنگی سامان بھی برآمد ہوا ہے۔ وائٹ نائٹ کور کے مطابق آپریشن تاحال جاری ہے۔اس سے قبل 5 ستمبر کو پلوامہ پولیس نے دہشت گردانہ حملے کی ایک بڑی سازش کو ناکام بنایا تھا۔ دہشت گردوں کے مددگار کو گرفتار کر کے ایک دستی بم برآمد کر لیا گیا۔ پولیس کے مطابق جمعرات کو پلوامہ کے کریم آباد کراسنگ پر ناکا لگا کر تفتیش کی جا رہی تھی۔ اس دوران کریم آباد کے رہائشی ارسلان احمد شیخ کے قبضے سے ایک دستی بم برآمد ہوا۔ اسے موقع پر گرفتار کر لیا گیا۔ ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ ملزم سکیورٹی فورسز کی ناکہ پارٹی پر دستی بم حملے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔