نتن گڈکری نے زوجیلا ٹنل کے مرکزی حصے کی تاریخی پیش رفت مکمل کی

نتن گڈکری نے زوجیلا ٹنل کے مرکزی حصے کی تاریخی پیش رفت مکمل کی

زوجیلا ٹنل لداخ کی موسمی تنہائی کا خاتمہ کرے گی ، 6809 کروڑ روپے کے منصوبے کا 75 فیصد کام مکمل

سرینگر// یو این ایس//مرکزی وزیر برائے سڑک نقل و حمل و شاہراہیں نتین گاڈکرے نے منگل کو زوجیلا ٹنل کے مرکزی حصے کے آخری بریک تھرو کیلئے دھماکہ خیز عمل کا ریموٹ بٹن دبا کر اس تاریخی مرحلے کو مکمل کیا۔ اس موقع پر انہوں نے اسے کشمیر اور لداخ کے درمیان ہر موسم میں رابطے کو یقینی بنانے کی سمت ایک تاریخی سنگ میل قرار دیا۔بریک تھرو کے اس عمل کے ساتھ ہی 13.15 کلومیٹر طویل مرکزی سرنگ کے دونوں سرے آپس میں مل گئے۔ یہ سرنگ قومی شاہراہ نمبر-1 پر کشمیر کے بالتل علاقے کو دراس کے قریب منی مارگ سے جوڑ رہی ہے اور اسے ملک کے سب سے اہم بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔یو این ایس کے مطابق اس تاریخی تقریب میں جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہاوزیر اعلیٰ عمر عبداللہ لداخ کے رکن پارلیمان محمد حنیفہ ایل اے ایچ ڈی سی کرگل کے چیئرمین و چیف ایگزیکٹو کونسلر ڈاکٹر محمد جعفر اخون، لداخ کے چیف سیکریٹری، ڈائریکٹر جنرل پولیس، این ایچ آئی ڈی سی ایل، بی آر او کے اعلیٰ افسران اور تعمیراتی کمپنی کے نمائندے بھی موجود تھے۔نتن گڈکری نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ زوجیلا ٹنل کشمیر اور لداخ کے درمیان سال بھر رابطہ فراہم کرے گی اور لداخ کو سردیوں کے دوران پیش آنے والی طویل موسمی تنہائی سے نجات دلائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے دفاعی نقل و حرکت مضبوط ہوگی، سیاحت کو فروغ ملے گا اور مقامی معیشت کو نئی طاقت حاصل ہوگی۔انہوں نے کہا، ’’یہ منصوبہ صرف ایک سرنگ نہیں بلکہ شمالی ہند کے دور افتادہ علاقوں کی ترقی، خوشحالی اور قومی سلامتی کیلئے ایک اہم سرمایہ کاری ہے۔ اس سے لوگوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی آئے گی اور خطے کی اقتصادی سرگرمیوں کو نئی رفتار ملے گی۔‘‘سطح سمندر سے تقریباً 11,578 فٹ کی بلندی پر تعمیر کی جانے والی زوجیلا ٹنل تکمیل کے بعد ایشیا کی طویل ترین دوطرفہ سڑک سرنگ بن جائے گی۔ منصوبے میں مرکزی سرنگ کے علاوہ ایک ایمرجنسی فرار سرنگ، تین عمودی وینٹی لیشن شافٹس اور تقریباً 18 کلومیٹر طویل رابطہ سڑکیں بھی شامل ہیں۔حکام کے مطابق اس منصوبے پر مجموعی طور پر تقریباً 6,809 کروڑ روپے لاگت آئے گی۔ اب تک تعمیراتی کام کا 75 فیصد سے زیادہ حصہ مکمل کیا جا چکا ہے۔ بریک تھرو کے بعد سرنگ کی اندرونی لائننگ، سڑک کی تعمیر، برقی اور میکانیکی نظاموں کی تنصیب جیسے باقی ماندہ مراحل کو تیز رفتاری سے مکمل کیا جائے گا۔پروجیکٹ حکام نے بتایا کہ منصوبے کو فروری 2028 تک مکمل طور پر عوام کیلئے کھولنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ سرنگ کے فعال ہونے کے بعد زوجیلا درہ عبور کرنے کا سفر، جو فی الحال موسم اور سڑک کی صورتحال کے مطابق تین گھنٹے یا اس سے زیادہ وقت لیتا ہے، کم ہو کر صرف 15 منٹ رہ جائے گا۔یہ سرنگ برفباری اور حادثات کے خطرات سے دوچار شاہراہ کے دشوار گزار حصوں کو بھی بائی پاس کرے گی، جس سے سفر زیادہ محفوظ اور آرام دہ بنے گا۔ اس کے علاوہ دفاعی اہلکاروں، ضروری اشیائے ضروریہ، تجارتی سامان اور سیاحوں کی نقل و حرکت سال بھر بلا تعطل جاری رہ سکے گی۔کرگل اور گاندربل کے مقامی عوامی نمائندوں اور سماجی شخصیات نے اس کامیابی کا خیرمقدم کرتے ہوئے زوجیلا ٹنل کو ’’لداخ کی لائف لائن‘‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے رابطہ نظام میں انقلابی تبدیلی آئے گی، معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا اور صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی خدمات تک رسائی مزید آسان ہو جائے گی۔ماہرین کے مطابق زوجیلا ٹنل نہ صرف ایک انجینئرنگ شاہکار ہے بلکہ یہ کشمیر، کرگل اور لداخ کے درمیان سماجی، اقتصادی اور اسٹریٹجک روابط کو مضبوط بنانے میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گی۔ اس کی تکمیل سے خطے میں ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز متوقع ہے۔