سری نگر کے کچھ حصوں میں مکمل بند،حق کی آواز بلند کرتے ہوئے ناحق ردعمل سے گریز کریں:علمائے دین
سری نگر//گرمائی درالحکومت سری نگر کے کچھ حصوں میں پیغمبراسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیخلاف کی گئی متنازعہ بیان بازی پر جمعہ کو مکمل بند رکھا گیا۔ اس دوران نماز جمعہ کے موقعہ پر علمائے دین نے گستاخانہ بیانات کی مذمت کرتے ہوئے مسلمانوں پرزوردیاکہ وہ حق کی آواز بلند کرتے ہوئے ناحق ردعمل سے گریز کریں ۔انہوںنے کہاکہ رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی پرمسلمان کیلئے ناقابل برداشت ہے ،لیکن اُسی نبی برحق صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات کے مطابق ہمیں صبروثبات اورنظم وضبط کابھی پابندرہنا چاہئے ۔جے کے این ایس کے مطابق بھاجپا کے 2معطل لیڈران کی جانب سے پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخانہ کلمات کا استعمال کئے جانے کیخلاف مکمل بند رکھا گیا۔ شہر کے سیول لائنز علاقے بشمول لالچوک اورشہرخاص کے کچھ علاقوں میں زیادہ تر دکانیں اور کاروباری ادارے بند دیکھے گئے۔ تاہم ، ان علاقوں میں پبلک ٹرانسپورٹ اور پرائیویٹ گاڑیاں معمول کی طرح چل رہیں تھیں۔سرکاری عہدیداروں نے بتایا کہ شہر کے حساس مقامات اور وادی میں امن و امان کو برقرار رکھنے کیلئے سیکورٹی فورسز کو مضبوطی سے تعینات کیا گیا ہے۔اس دوران وادی کی مساجدمیں نماز جمعہ کے موقعہ پر ائمہ مساجد اورعلمائے دین نے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخانہ بیان بازی پرتشویش کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کیساتھ والہانہ محبت ہرمسلمان کے ایمان کااہم جز ہے ۔انہوںنے کہاکہ رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کوئی مسلمان برداشت نہیں کرسکتاہے لیکن مسلمانوںکوچاہئے کہ وہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات وہدایات پر عمل پیرارہتے ہوئے حق کی آواز بلند کرتے ہوئے ناحق ردعمل سے گریز کریں۔یاد رہے گستاخانہ تبصروں کے خلاف گزشتہ جمعہ کو سری نگر کے کئی علاقوں اوربڈگام میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے تھے۔










