سری نگر اور جموں میں کسان بھون کے قیام پر زور دیا اورسیب کی برآمد کیلئے خصوصی اے سی ریلوے بوگیوں کی وکالت کی
سری نگر//نائب وزیراعلیٰ سریندر کمار چودھری نے بھارتیہ کسان یونین (بی کے یو) کے ایک وفد جس کی قیادت قومی ترجمان چودھری راکیش ٹکیت کر رہے تھے، سے جموں و کشمیر کے کسانوں کو درپیش مختلف مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔وفد نے سول سیکرٹریٹ سری نگر میں نائب وزیر اعلیٰ سے ملاقات کی اور ایک یادداشت پیش کی جس میں جموں و کشمیر کے زرعی، باغبانی اور متعلقہ شعبوں کے تحفظ اور استحکام کے لئے متعدد اہم مطالبات شامل تھے۔دوران گفتگو نائب وزیر اعلیٰ نے دیرپا زرعی ترقی، کسانوں کی آمدنی میں اضافے اور جموں و کشمیر میں مجموعی دیہی ترقی کو فروغ دینے کے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔ اُنہوں نے وفد کے مسائل کو بغور سُنا اور یقین دِلایا کہ تمام جائز مطالبات کو ترجیحی بنیادوں پر متعلقہ محکموں کے ساتھ اُٹھایا جائے گا۔اُنہوں نے کسان کمیونٹی کے لئے مضبوط ادارہ جاتی تعاون کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے سری نگر اور جموں دونوں مقامات پر کسان بھون قائم کرنے کی وکالت کی تاکہ کسانوں کو اَپنی شکایات اور مسائل پیش کرنے کے لئے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کیا جا سکے۔نائب وزیراعلیٰ نےجموں و کشمیر کی معیشت میں باغبانی کے شعبے کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے سیب اور دیگر نازک فصلوں کی ٹرانسپورٹیشن اور برآمد کے لئے خصوصی ایئر کنڈیشینڈ ریلوے بوگیز متعارف کرنے کی بھی وکالت کی تاکہ ملک بھر میں مارکیٹوں تک بروقت اور محفوظ رسائی کو یقینی بنایا جا سکے۔اُنہوںنے کہا کہ جموں و کشمیر میں نامیاتی کاشتکاری کے بے پناہ امکانات موجود ہیں اور کسانوں کو چاہیے کہ وہ زرعی اَدویات سے پاک کاشتکاری اختیار کریں تاکہ مقامی پیداوار کے معیار، مارکیٹ ویلیو اور فروخت میں اضافہ ہو۔میٹنگ میں مقامی پیداوار کو متاثر کرنے والی درآمدات، ٹیرف سے متعلق خدشات، منڈیوں تک رسائی، ٹرانسپورٹیشن کی رُکاوٹوں اور کسانوں و باغبانوں کو درپیش دیگر مسائل پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔بھارتیہ کسان یونین (بی کے یو) کی طرف سے پیش کرد ہ میمورنڈم میں مقامی ہارٹی کلچر کے تحفظ کے لئے غیر ملکی زرعی و باغبانی مصنوعات بالخصوص سیب اور دیگر پھلوں پر زیادہ درآمدی ڈیوٹی لگانے کی درخواست کی گئی تاکہ مقامی کسانوں کے مفادات کا تحفظ کیا جاسکے ۔ وفد نے باغات کو ژالہ باری اورآفات سماوی سے بچانے کے لئے اینٹی ہیل نیٹس پر 90 فیصد تک سبسڈی فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔دیگر مطالبات میں تازہ اور جلد خراب ہونے والے پھلوںکی ٹرانسپورٹیشن کے لئے خصوصی ریفریجریٹیڈ ریلوے بوگیوں کی فراہمی، باغبانی کے اہم علاقوں میں جدید کولڈ سٹوریج انفراسٹرکچر کی توسیع، اور ڈیری و پولٹری فارمروںکے لئے رعایتی چارے اور خوراک کی جامع پالیسی شامل تھی۔وفد نے سبسڈی سکیموں کے شفاف اور مؤثر نفاذ، سیب اور دیگر پھلوں کی ویلیو ایڈیشن کے لئے فروٹ پروسسنگ اور کیننگ یونٹوں کے قیام، فصل بیمہ کے دائرہ کار کو مضبوط بنانے اور بڑھتے ہوئے انسانی و جنگلی حیات کے تصادم سے ہونے والے فصلی نقصانات کے ازالے کے لئے مؤثر اقدامات کا بھی مطالبہ کیا۔بھارتیہ کسان یونین (بی کے یو) کے وفد میں جنرل سیکرٹری یدھویر سنگھ، سیکرٹری دھرم ویر سنگھ، سبھاش چودھری اور کشمیر کے مختلف اضلاع کے نمائندگان شامل تھے۔










