دہلی ۔ امرتسر ۔ کٹراہ ایکسپریس وے کی پیش رفت کا جائزہ لیا ، عوامی رابطہ پروگراموں میں لوگوں کے مسائل سنے
کٹراہ// نائب وزیر اعلیٰ سریندرکمار چودھری نے اودھمپور اور کٹراہ کا تفصیلی دورہ کرکے جاری ترقیاتی کاموں کا معائینہ کیا اور اہم بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔اُنہوں نے اودھمپور دورے کے دوران ناردرن کمانڈ ہسپتال کا بھی دورہ کیا اور جے اے کے ایل آئی فسٹ کے صوبیدار راکیش کمار کی عیادت کی جو اِس وقت زیر علاج ہیں۔نائب وزیر اعلیٰ نے موجود ڈاکٹروں سے بات چیت کی اور زخمی فوجی کی طبی حالت کا جائزہ لیا۔ اُنہوں نے ہسپتال اِنتظامیہ کو ہدایت دی کہ صوبیدار راکیش کمار کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے اور ان کی جلد صحتیابی کو یقینی بنانے کے لئے ہر ممکن کوشش کی جائے۔اُنہوں نے صوبیدار راکیش کمار کے اہلِ خانہ سے بھی ملاقات کی اور انہیں علاج کے دوران معیاری طبی علاج اور تمام ضروری مدد فراہم کرنے میں حکومت کے مکمل تعاون کا یقین دِلایا۔اُنہوںنے فوجی کی جلد صحتیابی و شفایابی کی امید ظاہر کرتے ہوئے طبی عملے کی طرف سے دِی جانی والی مخلصانہ خدمات کی ستائش کی۔بعد میںنائب وزیر اعلیٰ نے دہلی۔امرتسر۔کٹرا ایکسپریس وے بالخصوص دومیل تا کٹرا ہ حصے پر جاری تعمیراتی کاموں کا معائینہ کیا اور کام کی رفتار اور معیار کا جائزہ لیا۔ اُنہوں نے اس اہم منصوبے کو مقررہ وقت میں مکمل کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تعمیراتی معیار اور حفاظتی اصولوں پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ ایکسپریس وے خطے میں رابطہ بہتر بنانے، سیاحت کو فروغ دینے اور اِقتصادی ترقی کو تیز کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔دورے کے دوران اُنہوںنے کٹرا ہ کے مختلف مقامات پر عوامی رابطہ پروگرام بھی منعقد کئے اور اُنہوں نے وہاں لوگوں کی شکایات، مسائل اور مطالبات کو بغور سنا۔ اُنہوں نے یقین دلایا کہ تمام حقیقی مسائل کو مقررہ مدت کے اندر حل کیا جائے گا اور متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ ان کے ازالے کے لئے فوری اقدامات کئے جائیں۔نائب وزیر اعلیٰ نے شفاف، جوابدہ اور عوام دوست طرزِ حکمرانی کے لئے حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں پر مؤثر عمل درآمد اور عوامی شکایات کے بروقت ازالے کے لئے باقاعدگی فیلڈ وِزٹ اور لوگوں سے روبرو رابطہ اور بات چیت نہایت ضروری ہے۔اِس موقعہ پر نائب وزیرا علیٰ سریندر کمار چودھری کے ہمراہ انجینئر اِن چیف، سپراِنٹنڈنگ انجینئران، مختلف انجینئرنگ شعبوں کے ایگزیکٹیو انجینئران، ضلعی انتظامیہ کے سینئر افسران اور سابق پنچایتی راج اداروں (پی آر آئی) کے نمائندگان بھی تھے۔










