شاہ فیصل کی بیورئو کریسی میں واپسی کی بازگشت
سری نگر// 2009کے یونین پبلک سروس کمیشن امتحان میں ملک بھرمیں اول رہنے اوربعدازاں اہم عہدوں پر تعینات رہنے والے سابق آئی اے ایس افسر ڈاکٹر شاہ فیصل کوسیاسی محاذ پر سرگرم ہونے کی اپنی غلطیوں کااعتراف ہے اوروہ اپنی غلطیوںکودور کرکے ایک نئی زندگی کی شروعات کیلئے پُرامید ہیں ،جبکہ موصوف کی بطور بیوروکریٹ کے سرکاری ملازمت میں واپسی کی قیاس آرائیاں پھر زور پکڑ چکی ہیں ۔ جے کے این ایس کے مطابق سابق آئی اے ایس افسر ڈاکٹر شاہ فیصل نے کسی نہ کسی شکل میں سرکاری ملازمت میں واپسی کے بارے میں خود اشارے دیئے۔ٹویٹس کی ایک سیریز میں، فیصل نے اپنی آئیڈیلزم کے بارے میں بات کی جس نے2019 میں سیاست میں آنے کیلئے سرکاری ملازمت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔شاہ فیصل نے ایک ٹویٹ میں کہا’’میری زندگی کے8 مہینے (جنوری 2019تااگست2019) نے اتنا کچھ ہوا کہ میں تقریباً ختم ہو چکا تھا۔ میں نے تقریباً وہ سب کچھ کھو دیا جو میں نے سالوں میں بنایا تھا۔ملازمت ، دوستوں، شہرت، عوامی خیر سگالی۔ لیکن میں نے کبھی اُمید نہیں چھوڑی۔تاہم میری آئیڈیلزم نے مجھے مایوس کر دیا تھا،‘‘۔انہوںنے ایک اورٹویٹ میں لکھاکہ ’’لیکن مجھے اپنے آپ پر بھروسہ تھا کہ میں ان غلطیوں کو دور کروں گا جو میں نے کی ہیں‘‘۔ انہوں نے مزید کہاکہ زندگی مجھے ایک اور موقع دے گی۔ میرا ایک حصہ ان 8 مہینوں کی یاد سے تھک گیا ہے اور اس میراث کو مٹانا چاہتا ہے۔ اس کا زیادہ تر حصہ پہلے ہی ختم ہوچکا ہے۔ وقت بقیہ یقین کو ختم کردے گا۔ ایک ٹویٹ میں سابق آئی اے ایس افسرنے لکھاکہ صرف یہ بتانے کا سوچا کہ زندگی خوبصورت ہے۔ یہ ہمیشہ خود کو ایک اور موقع دینے کے قابل ہے۔ ناکامیاں ہمیں مضبوط بناتی ہیں۔ اور ماضی کے سائے سے پرے ایک حیرت انگیز دنیا ہے۔ میں اگلے مہینے 39 سال کا ہو جاؤں گا۔ اور میں دوبارہ سے شروع کرنے کے لیے بہت پرجوش ہوں۔اپنے ٹویٹس میںاگرچہ شاہ فیصل نے یہ نہیں بتایا کہ ’’ایک اور موقع‘‘سے ان کا کیا مطلب ہے، لیکن گزشتہ ایک سال سے یہ قیاس آرائیاں عروج پر ہیں کہ وہ یا تو آئی اے ایس افسر کے طور پر یا پھر جموں و کشمیر کے لیفٹنٹ گورنر کے کسی مشاورتی کردار میں سرکاری ملازمت میں واپس آ سکتے ہیں۔شاہ فیصل نے سال2009کے یوپی ایس سی امتحان میں امتیازی پوزیشن حاصل کرنے کے بعدجموں وکشمیر انتظامیہ میں کئی اہم عہدوں پرفرائض انجام دئیے اورکافی عزت وشہرت بھی پائی ،تاہم جنوری2019میں انہوںنے اچانک سرکاری ملازمت سے استعفیٰ دے دیا ،اوراُسی سال مارچ میں اپنی سیاسی جماعت جموں و کشمیر پیپلز موومنٹ کی بنیاد رکھی اور اسمبلی انتخابات لڑنے کا منصوبہ بنایا جو ہونے والے تھے۔ڈاکٹر شاہ فیصل کواگست2019 میں آرٹیکل370 کی منسوخی اور جموں و کشمیر کو جموں و کشمیر اور لداخ کے مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کرنے کے تناظر میں گرفتار کیا گیا تھا۔تاہم،رہائی کے فوراًبعدانہوںنے سیاست چھوڑ دی۔وہ سوشل میڈیا پر موجودہ حکومت کی پالیسیوں کے پرجوش حامی رہے ہیں۔ فیصل اکثر اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کی تقاریر شیئر کرتے رہتے ہیں۔










