amarnat yatra

موسم بہتر:نون ون پہلگام کے بعدپیر کی صبح بال تل بیس کیمپ سے بھی امرناتھ یاترابحال

10دنوںمیںایک لاکھ سے زیادہ یاتریوں نے دی گھپامیں حاضری

سری نگر// یکم جولائی2023کو شروع ہونے والی 62روزہ سالانہ امرناتھ یاترا کے 10دنوںمیں امرناتھ گھپا میں حاضری دینے والے یاتریوںکی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کرگئی ،کیونکہ اتوار کی شا م تک90ہزار یاتریوںنے یہاں شیولنگم کادرشن کیاتھا جبکہ پیرکی صبح بال تل بیس کیمپ سے بھی یاترا کوبحال کیاگیا،اور دونوں بیس کیمپوں سے پیر کو مزید7ہزار سے زیادہ یاتری پیدل اورہیلی کاپٹر سروس کے ذریعے امرناتھ گھپا پہنچے جبکہ وہاں پہلے ہی ہزاروں یاتری موجودہیں ۔اس دوران جموں سے یاترا کومسلسل تیسرے روز بھی معطل رکھاگیا کیونکہ رام بن کے علاقے میں سری نگرجموں قومی شاہراہ کاایک بڑا حصہ حالیہ بارشوں کے نتیجے میں مٹی کے تودے اوربڑے پتھر گرآنے کے بعدڈھہ گیاہے ،تاہم پہلے7دنوں میں بھگوتی نگرجموں سے 40ہزار سے زیادہ یاتری کشمیر پہنچے ہیں ۔جے کے این ایس کے مطابق موسم کی بہتری کے بعد سالانہ امرناتھ یاترا پیر کی صبح بال تل بیس کیمپ سے دوبارہ شروع ہوئی جبکہ نون ون پہلگام سے اتوار کی سہ پہر یاتراکوبحال کیاگیاتھا۔حکام نے بتایاکہ انتظامیہ نے یاتریوں کی سہولت کیلئے ہیلی کاپٹر سروس بھی دوبارہ شروع کر دی ہے۔انہوںنے کہاکہ اتوار کی سہ پہر پہلگام بیس کیمپ سے یاترا دوبارہ شروع ہوئی تھی جبکہ پیرکی صبح بال تل سے بھی یاتراکوبحال کیاگیاہے ۔انہوںنے کہاکہ اتوار کی شام تک یعنی پہلے9دنوںمیں 90ہزار سے زیادہ یاتریوںنے سطح سمندر سے3880میٹر بلندی پرواقع امرناتھ گھپامیں حاضری دی جبکہ پیرکے روز مزید10ہزار سے زیادہ یاتریوںنے شیولنگم کے درشن کئے اوریوں امرناتھ گھپامیں حاضری دینے والے یاتریوں کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے ۔دریں اثناء امرناتھ یاترا رام بن علاقے میں جموں سری نگر ہائی وے کے ایک حصے کو ہونے والے بڑے نقصان کی وجہ سے پیر کو مسلسل تیسرے دن جموں سے معطل رہی۔ جموں میں6000 سے زیادہ یاتری پھنسے ہوئے ہیں، خاص طور پر بھگوتی نگر بیس کیمپ میں جبکہ 5000 سے زیادہ یاتری رام بن ضلع کے چندر کوٹ بیس کیمپ میں درماندہ پڑے ہوئے ہیں۔حکام نے بتایاکہ شاہراہ کی خراب حالت کی وجہ سے جموں سے یاترا بدستور معطل ہے۔ایک سینئر افسر نے بتایاکہ یاتریوں کی کسی بھی تازہ کھیپ کو پیر کے روز جموں بیس کیمپ سے کشمیر کی طرف جانے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔انہوں نے مزید کہاکہ زیادہ یاتری امرناتھ کے اپنے اگلے سفرکیلئے جموں پہنچ رہے ہیں۔ لیکن ان میں سے بیشتر کو مختلف قیام گاہوں میں ٹھہرایا جا رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ کچھ یاتریوں کوبھگوتی نگر جموں یاتری نواس میں رَش سے بچنے کیلئے کٹھوعہ اور سانبہ اضلاع کے لکھن پور اور چیچی ماتا کے کیمپوں میں ٹھہرایا گیا ہے۔حکام کے مطابق 30جون کو پہلے قافلے کی روانگی کے بعد سے7قافلوںمیں 40ہزار سے زیادہ یاتری جموں سے کشمیر روانہ کئے گئے ۔اس دوران سری نگرجموں قومی شاہراہ بند رہنے کی وجہ سے جموں سے امرناتھ یاتریوںکی کشمیر آمد مسلسل تیسرے روز بھی معطل رہی ۔ حکام نے کہا کہ ہفتہ اور اتوار کو ہونے والی مسلسل بارش نے سری نگرجموں قومی شاہراہ کو غیر معمولی نقصان پہنچایا، خاص طور پر ضلع رام بن کے ایک حصے کو، اسے بند کرنے پر مجبور کرنا پڑا۔ایک ٹریفک پولیس اہلکار نے بتایا کہ بحالی کے جاری کاموں کے پیش نظر، خاص طور پر پنتھیال اور سیری میں، پیر کو ہائی وے پر کسی بھی گاڑی کی نقل و حرکت کی اجازت نہیں ہوگی۔ٹریفک کی آمدورفت کو جلد از جلد بحال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیرکی شام کو ایک اپ ڈیٹ شیئر کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ یاتریوں سے صرف جموں اور کشمیر ڈویڑنوں کے درمیان گاڑیوں کی آمدورفت بحال ہونے کے بعد اپنی یاترا دوبارہ شروع کرنے کے لیے کہا جائے گا۔حکام نے بتایاکہ سری نگرجموں قومی شاہراہ پر پیر کو ٹریفک معطل رہے گی۔ لوگوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اس وقت تک ہائی وے پر سفر کرنے سے گریز کریں جب تک انتظامیہ کی طرف سے تصدیق نہیں ہو جاتی۔انہوں نے کہا کہ بھاری موٹر گاڑیوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ جموں سے سری نگر کے سفراور سری نگر سے جموں سفر کیلئے مغل روڈ سے جائیں۔دریں اثنا، ڈویڑنل کمشنر رمیش کمار ڈپٹی کمشنروں کے ساتھ صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں، حکام نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں کہ پھنسے ہوئے لوگوں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔