جو کوئی بھی ہندوستان کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھے گا، ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے/ ترون چھگ
سرینگر // ’’مودی ہے تو ممکن ہے ‘‘ کا نعرہ بلند کرتے ہوئے بی جے پی کے قومی جنرل سیکرٹری اور جموں کشمیرانچارج ترون چھگ نے کہا کہ جموں کشمیر میں اگلی حکومت بی جے پی کی بنے گی ۔ سی این آئی کے مطابق بی جے پی کے قومی جنرل سیکرٹری ترن چھگ نے جموں و کشمیر کے عوام سے اپیل کی کہ وہ ووٹ ڈالتے وقت قومی مفاد کو ذہن میں رکھیں۔چنینی میںبی جے پی امیدوار بلونت سنگھ منکوٹیا کے حق میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ترون چھگ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے جموں و کشمیر کو ملک کی سب سے زیادہ ترقی یافتہ ریاست بنانے کی سمت میں کام شروع کیا ہوا ہے۔چھگ نے نیشنل کانفرنس اور کانگریس کے منشور کی سخت مذمت کی، جس میں دفعہ 370 اور 35A کی بحالی، پی ایس اے ایکٹ کو ختم کرنے اور دہشت گردوں کی رہائی کا وعدہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے ان پر ایس سی، ایس ٹی، او بی سی، پہاڑی، گوجر اور بکروال کمیونٹی کی ریزرویشن ختم کرنے کی بات کرنے پر تنقید کی۔ چھگ نے کہا ’’گوجر، بکروال، والمیکی اور پہاڑی بچے ڈاکٹر اور انجینئر بنیں گے، جبکہ عبداللہ اور گاندھی خاندان ان ریزرویشن کو ختم کرنے کی بات کر رہے ہیں، جو بی جے پی حکومت نے دیے ہیں۔‘‘انہوں نے اس بات پر غم و غصے کا اظہار کیا کہ کس طرح کشمیری پنڈتوں کو جموں و کشمیر چھوڑنے پر مجبور کیا گیا جب فاروق عبداللہ وزیر اعلیٰ تھے۔چگ نے کہا، ’’این سی کے رہنما 1990 کی تاریخ کو دہرانے کی بات کرتے ہیں۔ ہمیں سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا ہوگا اور ان قوتوں کو دوبارہ منتخب ہونے سے روکنا ہوگا۔ یہ جمہوریت اور بیلٹ کی لڑائی ہے، اور ہمیں ان کو شکست دینی ہے۔‘‘چھگ نے مزید کہا، ’’پاکستان دہشت گردی کی فیکٹری ہے، اور فاروق عبداللہ پاکستان سے بات چیت کرنے کی ضد کرتے ہیں۔ یہ نریندر مودی کی حکومت ہے، جس کی دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی ہے۔ جو کوئی بھی ہندوستان کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھے گا، ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ ہمارے اندر دشمن ہیں، جیسے فاروق عبداللہ، جو پاکستان کے حق میں اور ان کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہ اب نہیں چلے گا۔‘‘چھگ نے اپنے خطاب کا اختتام کرتے ہوئے کہا، ’’یہ لڑائی قوم پرستی اور ہماری مادر وطن کی ہے۔ ہمیں اپنے ملک کو ان لوگوں سے بچانا ہے جو ہمارے ملک کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی بات کرتے ہیں۔ این سی اور کانگریس ایسے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں جو ہمارے ملک کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی بات کرتے ہیں۔ ہمیں ان کے ایجنڈے اور ارادوں کو دفن کرنا ہے ۔










