امن لوٹ رہا ہے ، کوئی پتھرائو ہے نہ ہڑتال ،مقامی ملی ٹنٹ بھرتی صفر

ملک کے امن کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث جو بھی پایا جائے گا اسے سخت سزا ہو گی

ملک کی سیکورٹی اور سالمیت کو نقصان پہنچنے والوں کو بخشا نہیں جا سکتا ہے:امیت شاہ

سرینگر// ملک کے امن کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث جو بھی پایا جائے گا اسے مرکزی حکومت کے ’’کرشنگ دھچکا‘‘ کا سامنا کرنا پڑے گا کی بات کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ ملک کی سیکورٹی اور سالمیت کو نقصان پہنچنے والوں کو بخشا نہیں جا سکتا ہے ۔ سی این آئی کے مطابق جموں و کشمیر اتحاد المسلمین اورعوامی ایکشن کمیٹی پر پانچ سالہ پابندی پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا کہ مرکزی سرکار نے جموں و کشمیر اتحاد المسلمین اورعوامی ایکشن کمیٹی کو یوے اپی اے کے تحت غیر قانونی انجمنیں قرار دیا ۔ یہ تنظیمیں لوگوں کو امن و امان کی صورتحال پیدا کرنے کیلئے اکساتی ہوئی پائی گئیں، جو بھارت کے اتحاد اور سالمیت کے لیے خطرہ ہیں۔ انہوں نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا ’’ جو بھی ملک کے امن، نظم اور خودمختاری کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث پایا گیا وہ مودی حکومت کے کرشنگ دھچکے کا سامنا کرنے کا پابند ہے۔ ‘‘ خیال رہے کہ وزارت داخلہ نے منگل کو اعلان کیا کہ اس نے جموں و کشمیر اتحاد المسلمین اور جموں و کشمیر میں قائم عوامی ایکشن کمیٹی کو ایک غیر قانونی تنظیم کے طور پر نامزد کیا ہے اور اس تنظیم پر ملک کی خودمختاری، سالمیت اور سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام لگاتے ہوئے اس پر فوری طور پر پانچ سال کی پابندی عائد کر دی ہے۔ایک سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق، عمر فاروق کی قیادت میں اے اے سی، جموں و کشمیر میں علیحدگی پسندی کو ہوا دینے کے لیے دہشت گردانہ سرگرمیوں کی حمایت اور بھارت مخالف پروپیگنڈہ پھیلانے میں ملوث رہی ہے۔ایک نوٹیفکیشن کے مطابق، مسرور عباس انصاری کی قیادت میں جے کے آئی ایم، جموں و کشمیر میں علیحدگی پسندی کو ہوا دینے کے لیے دہشت گردانہ سرگرمیوں کی حمایت اور بھارت مخالف پروپیگنڈہ پھیلانے میں ملوث رہی ہے اور ان پر بھی پانچ سال کی پابندی عائد کر دی گئی ہے ۔