یشامدگل نے پی اے سی ایس کی کمپیوٹرائزیشن سے متعلق مرکزی سکیم کی پیش رفت کا جائزہ لیا

یشامدگل نے پی اے سی ایس کی کمپیوٹرائزیشن سے متعلق مرکزی سکیم کی پیش رفت کا جائزہ لیا

جموں// کمشنر سیکرٹری محکمہ اِمدادِ باہمی یشامدگل نے ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی تاکہ مرکزی معاونت والی سکیم کے تحت پرائمری ایگری کلچرل کریڈٹ سوسائٹیز ( پی اے سی ایس ) کی کمپیوٹرائزیشن کے مرحلہ دوم کی پیش رفت کا جائزہ لیا جا سکے جو جموں و کشمیر یونین ٹیریٹری میں زیر عمل ہے۔میٹنگ میں سپیشل سیکرٹری محکمہ کوآپریٹیو، ایف اے/سی اے او، جوائنٹ رجسٹرار (آڈِٹ)، ڈپٹی رجسٹرارز اور محکمہ کے دیگر سینئر اَفسران نے شرکت کی۔دورانِ میٹنگ کمشنر سیکرٹر ی کو بتایا گیا کہ مرکزی وزارتِ کوآپریشن نے اس مرحلے کے تحت جموں و کشمیر میں 171 پی اے سی ایس کو شامل کرنے کی منظوری دی ہے۔مزیدیہ بھی بتایا گیا کہ 20 اَضلاع میں سے 8 اَضلاع نے ڈِسٹرکٹ لیول امپلی مینٹیشن اور مانیٹرنگ کمیٹیوں (ڈِی ایل آئی ایم سی) کے ذریعے شناخت اور منظوری کا عمل مکمل کر لیا ہے جبکہ باقی اَضلاع میں پیش رفت ابھی باقی ہے۔یشا مدگل نے کہا کہ پی اے سی ایس نچلی سطح کے کوآپریٹیو ادارے ہیں جو کسانوں اور دیہی آبادی کو قرض اور بنیادی خدمات فراہم کرنے میں کلیدی کردار اَدا کرتے ہیں۔ اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ مرکزی حکومت کی طرف سے شروع کی گئی کمپیوٹرائزیشن سکیم کا مقصد ان اداروں کو ڈیجیٹل طور پر مضبوط بنانا، شفافیت کو فروغ دینا اور جدید خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔کمشنرسیکرٹری نے بقیہ اضلاع میں سست رفتار پیش رفت پر سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ ڈپٹی رجسٹراروں کو ہدایت دی کہ منظوری کے عمل کو فوری طور تیز کیا جائے۔ اُنہوں نے 5 ؍مئی 2026 ء تک تما م ڈِی ایل آئی ایم سی منظوریوں کو مکمل کرنے کی ڈیڈ لائن مقرر کی اور واضح کیا کہ مقررہ وقت میں کارروائی کی تکمیل لازمی ہے۔اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ اِس مرکزی سکیم کی کامیابی ضلعی سطح پر جوابدہی اور فعال نگرانی پر منحصر ہے۔ اُنہوں نے ہدایت دی کہ سخت مانیٹرنگ کو یقینی بنایا جائے تاکہ اِس سکیم کے فوائد مقررہ مدت میں دیہی عوام تک پہنچ سکیں۔ فیلڈ سطح کے اَفسران کے درمیان بہتر تال میل اور تمام طریقہ کار کی ضروریات پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔