کشمیر سے فوری ٹرانسفر کا پھرمطالبہ،کہاکہ اب ہم وہاں محفوظ نہیں ،واپس نہیں جائیں گے
سری نگر//جموں وکشمیر حکومت کی یقین دہانیوں اورانتظامیہ کی جانب سے محفوظ مقامات پرتعینات کئے جانے کے فیصلے کے باوجود کشمیر میں تعینات مہاجرپنڈت اورصوبہ جموں سے تعلق رکھنے والے ملازمین کااحتجاج جاری ہے ،اوروہ اپنے اس مطالبے پراٹل ہیں کہ اُنھیں کشمیر سے ٹرانسفر کرکے صوبہ جموںمیں تعینات کیا جائے ۔جے کے این ایس کے مطابق ایسے درجنوں مردوزن سرکار ی ملازمین دوسرے دن بھی جموں میں دھرنا دیا اور جاری ٹارگٹ کلنگ کے پیش نظر اُنھیں کشمیر سے آبائی اضلاع میں منتقلی کا مطالبہ کیا۔منگل کے روز جنوبی کشمیر کے کولگام ضلع کے ایک سکول میں بندوق برداروں کے ہاتھوں سانبہ کی ایک36سالہ اُستانی رجنی بالا کی ہلاکت کے بعداپنے گھروں کولوٹے ملازمین نے جموںمیں احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ ’آل جموں بیسڈ ریزروڈ کیٹیگریز ملازمین ایسوسی ایشن‘ کے بینر تلے، مظاہرین نے جمعرات کو پریس کلب سے امبیڈکر چوک تک مارچ نکالا اور اس کے بعد انہوںنے جمعہ کو جموںشہر کے وسط میں واقع پانامہ چوک پر ایک اور دھرنا دیا۔ احتجاجیوں نے کہا،’’ہم ٹارگٹ کلنگ کے بعد موجودہ تشویشناک صورتحال میں اپنے فرائض دوبارہ شروع کرنے کیلئے کشمیر واپس نہیں جا ئیں گے،کیونکہ ہم خود کووہاں اب محفوظ تصور نہیں کرتے ہیں۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ان کے احتجاج کا نوٹس لے اور ان کی کشمیر سے جموں خطے میں منتقلی کو یقینی بنایا جائے۔احتجاجی ملازمین نے کہا کہ وہ پہلے ہی 15 سال کشمیر میں خدمات انجام دے چکے ہیں اور اب وہ مرنے کیلئے واپس جانے کو تیار نہیں ہیں۔اس احتجاج میں شامل خواتین اساتذہ نے سیکورٹی کے مسائل کی وجہ سے وادی میں واپس آنے پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔انہوںنے کہاکہ ہمیں کشمیریوں سے کوئی خطرہ نہیں لیکن دہشت گردکب حملہ کریں ،اُنھیں کچھ معلوم نہیں ۔ ایک خاتون نے کہاکہ کشمیر میں محفوظ زون کہاں ہیں؟ ہمیں باہر نکلنا ہے، اپنے بچوں کو مقامی سکولوں میں چھوڑنا ہے، اور اپنی ڈیوٹی پر حاضر ہونا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ وہ گزشتہ ایک دہائی سے کشمیر میں مقامی آبادی کے ساتھ خوشی سے رہ رہے ہیں اور دعویٰ کیا کہ ٹارگٹ کلنگ نے ان میں خوف پیدا کیا ہے۔










