وزیر اعظم نریندر مودی کاتوانائی، مہنگائی اور سپلائی چین کے چیلنجوںسے نمٹنے کے لیے اصلاحات تیز کرنے پر زور
سرینگر// یو این ایس// وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز وزیر اعظم کی اقتصادی مشاورتی کونسل کے اراکین کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی جس میں مغربی ایشیا میں جاری بحران اور عالمی اقتصادی غیر یقینی صورتحال کے تناظر میں بھارت کی معاشی ترقی کو برقرار رکھنے کے لیے مختلف حکمت عملیوں پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔یو این ایس کے مطابق ذرائع کے مطابق اجلاس میں ملک کی اقتصادی رفتار کو برقرار رکھنے، بیرونی جھٹکوں کے مقابلے میں معیشت کو مزید مضبوط بنانے اور عوام کے لیے آسان زندگی اور کاروبار کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی غرض سے جاری اصلاحاتی اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں اراکین نے عالمی اقتصادی صورتحال میں تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیوں اور ان کے بھارت پر ممکنہ اثرات کا بھی تفصیلی تجزیہ پیش کیا۔اجلاس کے دوران مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی اور تنازعات کے عالمی معیشت پر مرتب ہونے والے اثرات خصوصی طور پر زیر بحث آئے۔ شرکاء نے توانائی کی عالمی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ، خام تیل کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے، سپلائی چین میں رکاوٹوں، مہنگائی کے بڑھتے ہوئے دباؤ اور بین الاقوامی تجارتی سرگرمیوں پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیا۔ ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت کو ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بروقت اور مؤثر حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔اجلاس میں اس امر پر بھی غور کیا گیا کہ ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ، صنعتی پیداوار میں بہتری، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے مزید اصلاحات کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں ضابطہ جاتی پیچیدگیوں کو کم کرنے، سرکاری خدمات کی فراہمی کو مزید مؤثر بنانے اور عوامی سہولیات کو بہتر بنانے کے مختلف اقدامات زیر غور آئے۔یہ اجلاس ایسے وقت منعقد ہوا ہے جب عالمی سطح پر توانائی کے شعبے میں غیر یقینی صورتحال بڑھ رہی ہے اور متعدد ممالک ایندھن کی فراہمی اور قیمتوں میں اضافے کے خدشات سے دوچار ہیں۔ بھارت، جو دنیا کے بڑے توانائی درآمد کنندگان میں شمار ہوتا ہے، ان عالمی حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ ملکی معیشت کو ممکنہ منفی اثرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔یو این ایس کے مطابق اجلاس کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی کے حالیہ بیانات کا بھی حوالہ دیا گیا جن میں انہوں نے کہا تھا کہ دنیا اس وقت غیر معمولی چیلنجز کے دور سے گزر رہی ہے۔ انہوں نے عالمی وبا، مختلف خطوں میں جنگی تنازعات، توانائی بحران اور سپلائی چین میں رکاوٹوں کو موجودہ دہائی کے بڑے خطرات قرار دیا تھا۔وزیر اعظم نے اس موقع پر ایک بار پھر توانائی کے شعبے میں خود کفالت کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ عالمی بحرانوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ممالک کو بیرونی انحصار کم کرکے اپنی داخلی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ہوگا۔ انہوں نے توانائی کے بنیادی ڈھانچے، جوہری توانائی اور مقامی مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں سرمایہ کاری کو بھارت کی طویل المدتی اقتصادی حکمت عملی کا اہم حصہ قرار دیا۔اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے چیلنجز کے باوجود بھارت کو اپنی معاشی بنیادوں کو مزید مضبوط بنانے، اصلاحات کے عمل کو تیز کرنے اور ترقی کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے مسلسل اقدامات جاری رکھنے ہوں گے۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملکی معیشت کو مستحکم رکھنے اور عوام کو عالمی اقتصادی بحرانوں کے منفی اثرات سے بچانے کے لیے تمام ضروری پالیسی اقدامات اختیار کیے جائیں گے۔اجلاس کے اختتام پر اس بات پر وسیع اتفاق رائے پایا گیا کہ بدلتے ہوئے عالمی حالات میں محتاط نگرانی، مضبوط اقتصادی منصوبہ بندی اور مسلسل اصلاحات ہی بھارت کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن رکھ سکتی ہیں۔










