مشیر بٹھناگر نے سکمز میں سرجیکل گیسٹرو اینٹرولوجی پر وسط مدتی سی ایم ای کانگریس سے خطاب کیا

جے اینڈ کے طبی بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں قابل ذکر پیش رفت کر رہا ہے ۔ مشیر بٹھناگر

سرینگر / /لفٹینٹ گورنر کے مشیر راجیو رائے بٹھناگر نے آج کہا کہ جموں و کشمیر یہاں کے لوگوں کو عالمی معیار کی طبی دیکھ بھال کی سہولیات فراہم کرنے کے واحد مقصد کے ساتھ طبی بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں نمایاں پیش رفت کر رہا ہے ۔ مشیر موصوف نے ان باتوں کا اظہار آج یہاں سکمز صورہ میں ’’ بلاری ٹریکٹ کے کینسر اور غیر کینسر کی بیماریاں ‘‘ کے موضوع کے تحت سرجیکل گیسٹرو اینٹرولوجی پر مڈ ٹرم کنٹینیونگ میڈیکل ایجوکیشن ( سی ایم ای ) کانگریس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ سی ایم ای کانگریس کا انعقاد انڈین ایسوسی ایشن آف سرجیکل گیسٹرو اینٹرولوجی کے زیر اہتمام ڈیپارٹمنٹ آف سرجیکل گیسٹرو اینٹرولوجی سکمز نے کیا تھا ۔ نامور محققین ، ڈاکٹروں ، سکمز کے فیکلٹی اور طب کے طلباء کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مشیر بٹھناگر جو کانگریس کے مہمانِ خصوصی تھے ، نے کہا کہ موجودہ حکومت جموں و کشمیر میں صحت کے شعبے پر بہت زیادہ توجہ دے رہی ہے اور پچھلے کچھ برسوں میں یو ٹی نے یہاں طبی انفراسٹرکچر کو ترقی دینے کے معاملے میں اہم سنگِ میل حاصل کئے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ سکمز ہمارے ملک کے قابلِ ذکر اداروں میں سے ایک ہے جو عوام کو طبی دیکھ بھال کی جدید سہولیات فراہم کرتا ہے ۔ سی ایم ای کانگریس کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے مشیر بٹھناگر نے کہا کہ سی ایم ای اس انسٹی ٹیوٹ کو ملک کے کچھ نامور اداروں کے ساتھ تعاون کرنے کے قابل بنائے گا جس سے پورے یو ٹی میں صحت کی دیکھ بھال کی خدمات میں نمایاں بہتری آئے گی ۔ مشیر نے مزید کہا کہ اس کانگریس کے اہم نتائج برآمد ہوں گے کیونکہ ملک کے چند سرکردہ معدے کے ماہرین اس میں حصہ لے رہے ہیں جن کی مہارت اور علم اس ادارے کی طبی تحقیق میں اضافہ کرے گا ۔ مشیر بٹھناگر نے سکمز کی انتظامیہ کو مکمل تعاون کا یقین دلایا اور امید ظاہر کی کہ سکمز جموں و کشمیر کے لوگوں کی خدمت جاری رکھے گا اور کہا کہ آج کے سی ایم ای ایونٹ کا تبادلہ اور خصوصی شعبوں میں علم کی بہتر تفہیم کے ذریعے ایک اہم نتیجہ نکلے گا اور اس طرح وہ صحت کی دیکھ بھال کی بہتر فراہمی کیلئے اپنا حصہ ڈالیں گے ۔ گذشتہ چند برسوں میں یو ٹی حکومت کی کچھ قابلِ ذکر کامیابیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے مشیر بٹھناگر نے کہا کہ جموں و کشمیر ان چند یو ٹیز میں سے ایک ہے جو صحت اسکیم کے تحت تمام شہریوں کو یونیورسل ہیلتھ انشورنس کوریج فراہم کر رہا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس اسکیم کی بدولت اب غریب سے غریب لوگ بغیر کسی رکاوٹ کے کسی بھی فہرست میں شامل ہسپتالوں میں جدید ترین طبی علاج آسانی سے حاصل کر سکتے ہیں جو پہلے ان کیلئے ممکن نہیں تھا ۔ مشیر نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر میڈیکل انفراسٹرکچر کے لحاظ سے نمایاں ترقی کر رہا ہے اور پچھلے کچھ برسوں میں پانچ نئے میڈیکل کالجوں کو آپریشنل کیا گیا ہے جبکہ دو کو بہت جلد فعال کر دیا جائے گا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر واحد جگہ ہے جہاں دو ایمز ہیں اس کے علاوہ دو خصوصی کینسر انسٹی ٹیوٹ کو بھی چند مہینوں میں فعال کر دیا جائے گا ۔ اپنے خطاب میں مشیر بٹھناگر نے وبائی مرض کووڈ 19 کے دوران ان کی نمایاں ذمہ داریوں کیلئے ادارے کی انتظامیہ ، ڈاکٹروں ، پیرا میڈیکل اسٹاف اور دیگر تمام متعلقہ کارکنوں کی بھی تعریف کی ۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سکمز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر پرویز اے کول نے کہا کہ سرجیکل گیسٹرو اینٹرولوجی سرجری کا ایک خاص شعبہ ہے اور حالیہ برسوں میں اس ادارے نے اس شعبے میں نمایاں پیش رفت کی ہے ۔ اپنے خطاب میں مہمانِ خصوصی ہیمنت کمار لوہیا نے انسانیت کی خدمت کرنے اور مشکل حالات میں زندہ رہنے میں سکمز کے کردار کی تعریف کی ۔ اپنے خطبہ استقبالیہ میں سرجیکل گیسٹرو اینٹرولوجی کے شعبہ کے ایچ او ڈی ڈاکٹر صدف علی نے کہا کہ یہ تقریب انتہائی اہمیت کی حامل ہے جہاں طلباء ، فیکلٹی اور دیگر عالمی شہرت یافتہ فیکلٹی اور مہمانوں کے علمی تبادلے اور لیکچرز سے مستفید ہوں گے ۔ ڈین میڈیکل فیکلٹی سکمز پروفیسر طارق گوجواری ، ایچ بی پی سرجری کے ڈائریکٹر ایم جی ایم ایچ جے پور پروفیسر وی کے کپور ، صدر الیکٹ انڈین ایسوسی ایشن آف سرجیکل گیسٹرو اینٹرولوجی اور ڈائریکٹر جی آئی سرجری سکھارا ورلڈ ہسپتال پروفیسر صادق ایس سکورا اور پرنسپل سکمز میڈیکل کالج نے بھی اس موقع پر خطاب کیا ۔