manooj pandy

مشرقی لداخ میں ہند۔ چین سرحدی صورت ِحال حساس: جنرل منوج پانڈے

سرینگر///فوجی سربراہ جنرل منوج پانڈے نے کہاکہ مشرقی لداخ اور اور دیگر سرحدی علاقوں میں تعینات بھارتی فوج کی پوزیشن مضبوط ہے تاہم چین کے ساتھ لگنے والی حقیقی حد متارکہ پر حالات حساس ہے اور ہمیں ہر حلہ پرنظر رکھنے ہوگی ۔ انہوںنے بتایا کہ ہمیں دنیا بھرمیں ہونے والی جنگوں سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ کیوں کہ موجودہ جدید ٹیکنالوجی کے دور میں جنگ کا طریقہ کار تبدیل ہوا ہے ۔ جنرل پانڈے نے بتایا کہ 1962کے بنسبت بھارتی فوج کافی مضبوط ہے اور جنگ کی صورت میں کافی بہتر انداز میں جوابی کارروائی کرسکتی ہے ۔وہ انڈیاٹوڈے کانکلیو 2024 میں مباحثہ میں حصہ لے رہے تھے۔وائس آف انڈیا کے مطابق بھارتی فوج کے سربراہ جنرل منوج پانڈے نے کہا کہ وہ حقیقی خط ِ قبضہ(ایل اے سی) کی صورتِ حال کو ’’مستحکم لیکن حساس‘‘ قراردینا چاہیں گے۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایل اے سی پر ہندوستانی فوجیوں کی تعیناتی متوازن ہے۔ وہ نئی دہلی میں ایک کانکلیو میں مباحثہ میں حصہ لے رہے تھے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہمیں سرحد پر انفرااسٹرکچر اور فوجیو ں کی نقل و حرکت کے سلسلہ میں گہری نظر رکھنی ہوگی۔ فوجی سربراہ سے خطہ میں چین کے بڑھتے اثرورسوخ کے تناظر میں کئی سوالات کئے گئے۔ان سے یہ بھی پوچھا گیا کہ ایل اے سی کی صورتِ حال بگڑی تو فوج کی مستقبل کی تیاری کیا ہے۔ ایل اے سی پر موجودہ صورتِ حال کے بارے میں پوچھنے پر جنرل پانڈے نے کہا کہ اختصار کے ساتھ میں اسے مستحکم لیکن حساس بتانا چاہوں گا۔ موجودہ مرحلہ میں ہمیں گہری نظر رکھنی ہے۔ ہمیں کمک تیار رکھنی ہوگی۔ فوجی سربراہ سے یہ بھی پوچھا گیا کہ ہم نے سرحد پر ٹکراؤ سے کیا سبق سیکھا۔جنرل نے جواب میں کہا کہ ہمیں دنیا بھرمیں ہونے والی جنگوں سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ ایک حالیہ بین الاقوامی رپورٹ کے بارے میں پوچھنے پر کہ ایل اے سی پر کشیدگی بڑھ سکتی ہے‘ جنرل نے کہا کہ ہم ہنگامی حالات کے لئے منصوبے رکھتے ہیں۔ میں وضاحت کے ساتھ کچھ بھی بتانا نہیں چاہوں گا۔فی الحال وہاں ہماری فوجی تعیناتی اچھی ہے۔ کشیدگی بھڑکنے پر کیا ہندوستان کا جواب 1962 کی جنگ سے مختلف ہوگا‘ اس سوال پر جنرل نے جواب دیا کہ یقینا مختلف ہوگا۔ جواب موثر ہوگا اور یہ صورتِ حال کے مطابق ہوگا۔