مشرقی لداخ میں ہندوستان اور چینی فوجی کمانڈروں کی 12ویں دور کی بات چیت

سرینگر//مشرقی لداخ میں جاری تعطل کو ختم کرنے کے حوالے سے ہندوستان اور چینی فوجی کمانڈروں کے مابین 12ویںدور کی بات چیت قریب 9گھنٹوں تک چلی رہی جس میں دونوں جانب اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ خطے میں سرحدوں پر امن و عمل کو تقویت دی جائے ۔ اس کے ساتھ ساتھ ہاٹ اسپرنگ اور گوگرامیں فوجیوں کی واپسی پر ہندوستان نے زور دیا ۔ لیکن ابھی تک دونوں فریقوں نے کچھ دیگر متنازعہ علاقوں سے فوج کی واپسی کے بارے میں معاہدہ نہیں کیا ہے۔کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق مشرقی لداخ میں ہندوستان اور چینی فوجی سربراہوں کی گزشتہ روز 12ویں دور کی بات چیت عمل میں لائی گئی جس میں دونوں جانب اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ خطے میں امن کا قیام دائمی ہو۔ نو گھنٹوں تک چلی اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے مشرقی لداخ سیکٹر میں جاری تعطل کو حل کرنے کے معاملہ پر گفتگو کی۔ فوجی ذرائع نے یہ جانکاری دی۔ دونوں فوج کے درمیان بات چیت مقررہ وقت پر صبح ساڑھے دس بجے شروع ہوئی تھی۔ذرائع نے کہا کہ اس میٹنگ کے دوران ہندوستان نے ہاٹ اسپرنگ اور گوگرا میں فوجیوں کی واپسی کے عمل پر زور دیا۔ حالانکہ فریقین کی جانب سے اس بارے میں آفیشیل بیان جاری ہونا ابھی باقی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ہندوستان اور چین کے درمیان بارہویں دور کی کور کمانڈر سطح کی گفتگو کا مقصد 14 مہینے سے زیادہ وقت سے اس علاقہ میں جاری تعطل کو ختم کرنا ہے۔انہوں نے بتایا کہ بات چیت کا یہ دور پچھلی مرتبہ ہوئی گفتگو سے ساڑھے تین ماہ سے بھی زیادہ وقت کے بعد ہوئی ہے۔ اس سے پہلے گیارہویں دور کی فوجی بات چیت نو اپریل کو ایل اے سی پر ہندوستان کی جانب چوشول بارڈر پوائنٹ پر ہوئی تھی اور یہ بات چیت تقریبا تیرہ گھنٹوں تک چلی تھی۔خیال رہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان اب تک مذاکرات کے 12 دور ہوچکے ہیں۔ مشرقی لداخ میں ایک سال سے زیادہ عرصے سے دونوں فریقوں کے مابین فوجی تعطل برقرار ہے۔ اب تک فوجی کمانڈروں کی طرف سے طے شدہ اتفاق رائے کی بنیاد پر فوجوں کو پینگونگ جھیل کے علاقے سے واپس بلا لیا گیا ہے۔ لیکن ابھی تک دونوں فریقوں نے کچھ دیگر متنازعہ علاقوں سے فوج کی واپسی کے بارے میں معاہدہ نہیں کیا ہے۔گذشتہ سال وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اپنے متعلقہ وزراء سے بیرون ملک منظم پروگراموں میں الگ الگ مواقع پر بات چیت کی تھی ، جس کی بنیاد پر دونوں فریقین نے لائن آف کنٹرول کے ساتھ امن اور باہمی اعتماد بڑھانے پر اتفاق کیا تھا۔