سری نگر//مشرقی لداخ میں حقیقی کنٹرول پر ہندوستان اورچین کی افواج کے درمیان لگ بھگ2سال جاری کشیدگی کوحل کرنے کیلئے دونوںملکوںکے درمیان فوجی کمانڈروںکی سطح پربات چیت کا15واں دور جمعہ کوہوا،جو تقریباً13گھنٹے تک جاری رہا۔فوج کے ذرائع نے میڈیاکو بتایا کہ کور کمانڈر سطح کی بات چیت کے 15 ویں دور کے دوران، جو تقریباً 13 گھنٹے تک جاری رہی، ہندوستانی فریق نے لداخ میں بقیہ کشیدگی والے پوائنٹس کے حل کیلئے چین پر زور دیا۔ذرائع نے بتایا کہ ہندوستانی فریق نے اپریل،مئی2020 میں شروع ہونے والے فوجی تعطل سے نمٹنے کیلئے ایک قرارداد پر زور دیا۔بات چیت کا تازہ دور مشرقی لداخ کے چشول میں ہوا۔وزارت دفاع کے ایک اعلیٰ افسر نے ہفتہ کو خبررساں ادارے یو این آئی کو بتایا کہ دونوں ممالک کے فوجی افسران نے مشرقی لداخ میں جاری تصادم کو ختم کرنے کے مسئلہ پر جمعہ کو 12 گھنٹے سے زیادہ وقت تک بات چیت کی۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ کور کمانڈر سطح کی بات چیت کا 15 واں دور ہندوستانی سرحد میں واقع چشول مولڈو میں ہوا۔ بات چیت جمعہ کی صبح ساڑھے10 بجے شروع ہوئی اور رات کو تقریباً 11 بجے ختم ہوئی۔اس دوران ہندوستان نے گوگرہ ہاٹ اسپرنگز کے علاقے میں پٹرولنگ پوائنٹ 15 پر تصادم کو کم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا اور اس کے بعد مشرقی لداخ میں کشیدگی کو کم کرنے کا معاملہ اٹھایا۔قابل ذکر ہے کہ وضع کردہ اصولوں کے مطابق میڈیا کو باضابطہ بیان جاری کرنے سے پہلے دفاع، سلامتی اور خارجہ امور کے حکام کے درمیان بات چیت کے نتائج پر تبادلہ خیال کیا جاتا ہے۔بھارت اور چین کے درمیان مشرقی لداخ میں حقیقی کنٹرول پر تعطل کو حل کرنیکیلئے فوجی کمانڈروںکی سطح پربات چیت کے14ادوارہوئے ،اوراب تک ہونے والی بات چیت کا نتیجہ پینگونگ تسو، گالوان اور گوگرا گرم چشمہ کے علاقوں کے شمالی اور جنوبی کنارے کے حل کی صورت میں نکلا ہے۔باہمی طور پر قابل قبول حل تلاش کرنے کے لئے دونوں فریقوں کے حالیہ بیانات حوصلہ افزا اور مثبت نوعیت کے ہیں۔










