نئی دہلی: بلگام کنٹونمنٹ بورڈ نے ”مزدور، دائی، قلی اور چوکیدار“ کی ملازمتوں کے لئے درخواست دینے والے امیدواروں نے مبینہ طور پر 15تا25لاکھ روپے رشوت ادا کی۔ سی بی آئی نے مبینہ بھرتی اسکام سے متعلق ایف آئی آر میں یہ بات کہی۔
اس ایف آئی آر کو جمعہ کے روز منظر عام پر لایا گیا۔ ایجنسی نے بلگام کنٹونمنٹ بورڈ کے 5 عہدیداروں اور 14 امیدواروں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے جنہوں نے رشوت ادا کی تھی۔ سی بی آئی نے گزشتہ سال تحقیقات شروع کی تھی۔ بورڈ کے ایک رکن کی شکایت پر ابتدائی تحقیقات شروع کی گئی تھیں جس نے 2022-23 میں کی گئی بھرتیوں میں کرپشن اور غیرقانونی اقدامات کے الزامات عائد کئے تھے۔انکوائری سے پتا چلا کہ 2022-23کو 31امیدواروں کو میکانک، اسسٹنٹ سنیٹری انسپکٹر، قلی، مالی، چپراسی، دائی وغیرہ عہدوں پر بھرتی کیا گیا تھا۔ عہدیداروں نے بتایا کہ آفس سپرنٹنڈنٹ مہالنگیشور تعلقدار، کمپیوٹر پروگرامر بسواراج گڈو ڈاگی، ڈاٹا انٹری آپریٹر پرکاش گونڈاڈکر، ہیڈماسٹر پرشارام برجے اور اسسٹنٹ ٹیچر ادئے پاٹل کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے جو اس وقت کے سی ای او کے حکم پر مختلف عہدوں پر کام کررہے تھے۔
سی بی آئی نے الزام لگایا ہے کہ کنٹونمنٹ بورڈ کے اس وقت کے سی ای او کے آنند (جو اب فوت ہوچکے ہیں)، بھرتی کے عمل پر کنٹرول کررہے تھے اور تقررارت کے لئے اتھاریٹی تھے۔
امتحان کے لئے پرچہ سوالات اور جوابی کلید تیار کرنے میں وہ بھی شامل تھے۔ 5 عہدیداروں کے ساتھ مل کر سازش کرتے ہوئے آنند نے امیدواروں سے 15 تا25 لاکھ روپے رشوت طلب اور وصول کی تھی تاکہ انتخاب کے عمل کو متاثر کیا جاسکے۔
سی بی آئی کی تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ پرچہ سوالات صرف انگریزی میں تیار کیا گیا تھا لیکن بیشتر امیدوار اسے پڑھنے اور سمجھنے سے قاصر تھے۔مزید الزام عائد کیا گیا ہے کہ اہل امیدواروں کو یا تر مسترد کردیا گیا یا پھر وہ امنتحان میں کامیابی نہیں ہوسکے کیونکہ وہ لوگ مذکورہ بالا سرکاری عہدیداروں کو رشوت ادا کرنے سے قاصر رہے۔










