farooq abdullah

مذاکرات ہی مسئلہ کشمیر سمیت تمام تنازعات کا واحد حل ہیں

کشمیری عوام ہمیشہ امن، افہام و تفہیم اور بات چیت کے حامی رہے ہیں//ڈاکٹر فاروق عبداللہ

سرینگر// یو این ایس//نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ کشمیری عوام کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ وہ ہمیشہ افہام و تفہیم، مذاکرات اور باہمی بات چیت کو ترجیح دیتے آئے ہیں، اور خطے کے تمام بڑے تنازعات کا حل صرف پرامن مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔یو این ایس کے مطابق سری نگر میں میڈیا نمائندوں سے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مرحوم شیخ محمد عبداللہ نے ہمیشہ اس مؤقف پر زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کا حل صرف اور صرف ہند۔پاک مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ ان کے مطابق امن کسی بھی خطے کی ترقی اور استحکام کی بنیاد ہوتا ہے، اور امن کا راستہ ہمیشہ بات چیت سے ہی نکلتا ہے۔انہوں نے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ بھی مذاکرات اور سفارتی عمل کو خطے میں امن کیلئے بنیادی حیثیت دیتے تھے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ واجپائی کا یہ مشہور قول کہ ’’دوست بدل سکتے ہیں مگر ہمسائے نہیں بدل سکتے‘‘ آج بھی خطے کیلئے ایک رہنما اصول کی حیثیت رکھتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر موجودہ سیاسی قیادت بھی اسی سوچ کو اپنائے اور مذاکرات کو ترجیح دے تو نہ صرف جموں کشمیر بلکہ پورے خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کی مضبوطی اور عوامی مفاد اسی میں ہے کہ مسائل کو سیاسی اور سفارتی سطح پر حل کیا جائے۔نیشنل کانفرنس صدر نے بھارتیہ جنتا پارٹی پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ جموں کشمیر میں منتخب حکومتوں کو کمزور کرنے اور انہیں بدنام کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ان کے مطابق اس طرزِ سیاست سے نہ صرف جمہوری ادارے متاثر ہوتے ہیں بلکہ عوامی اعتماد بھی مجروح ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے پاس کوئی واضح عوامی ایجنڈا نہیں ہے اور ماضی میں بھی اس جماعت پر یہ الزامات لگتے رہے ہیں کہ وہ مذہب اور زبان کی بنیاد پر معاشرے میں تقسیم پیدا کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’نوٹ کے بدلے ووٹ‘‘ جیسے نعرے سیاسی نظام پر سوالات اٹھاتے ہیں اور عوام کو گمراہ کرنے کی کوششوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔یو این ایس کے مطابق ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے مزید کہا کہ دنیا بھر میں، خصوصاً مشرق وسطیٰ اور برصغیر کے خطے میں، عوام جنگوں اور تنازعات کے بجائے امن اور سفارتی حل کے خواہاں ہیں۔ ان کے مطابق خطے میں جاری بحرانوں کا حل صرف بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے تاکہ انسانی جانوں کا نقصان روکا جاسکے اور معاشی بدحالی کا خاتمہ ہو۔انہوں نے زور دیا کہ عالمی برادری بھی مسلسل جنگ بندی اور دیرپا امن کیلئے کوششیں کررہی ہے، اور یہی راستہ آنے والی نسلوں کیلئے محفوظ، پرامن اور ترقی یافتہ مستقبل کی ضمانت فراہم کرسکتا ہے۔