مدھیہ پردیش میں بی جے پی کو لگا جھٹکا، سابق رکن پارلیمنٹ ماکھن سنگھ سولنکی نے تھاما کانگریس کا ہاتھ

مدھیہ پردیش میں اسمبلی انتخاب کی ہلچل شروع ہوتے ہی بی جے پی کو جھٹکے لگنے کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔ بی جے پی کو تازہ جھٹکا نیمانڈ علاقہ میں لگا ہے جہاں کھرگون-بڑوانی سے سابق رکن پارلیمنٹ ماکھن سنگھ سولنکی نے آج سابق وزیر اعلیٰ دگوجے سنگھ کی موجودگی میں کانگریس کی رکنیت اختیار کر لی۔ بڑوانی ضلع کے سلاود میں جمعہ کے روز ضلع کانگریس نے عوامی تقریب کا انعقاد کیا تھا۔ اس موقع پر کھرگون-بڑوانی لوک سبھا حلقہ سے 2009میں بی جے پی رکن پارلیمنٹ رہے ماکھن سنگھ سولنکی نے اپنے حامیوں کے ساتھ کانگریس کی رکنیت اختیار کر لی۔ اس تقریب میں سابق وزیر اعلیٰ دگوجے سنگھ بھی موجود تھے۔گزشتہ دنوں بی جے پی کے بڑے لیڈر یادویندر سنگھ یادو نے بھی برسراقتدار پارٹی کو جھٹکا دیتے ہوئے کانگریس کی رکنیت اختیار کر لی تھی۔ بی جے پی نے کانگریس کی مونا سستانی کو اپنی پارٹی میں شامل کر کے اس کا جواب دینے کی ناکام کوشش کی تھی۔ اب نیمانڈ علاقے کے بڑوانی میں کانگریس نے بی جے پی کو زبردست جھٹکا دے دیا ہے۔واضح رہے کہ مدھیہ پردیش میں رواں سال کے آخر میں اسمبلی انتخاب ممکنہ ہے۔ ایسے میں تقریباً 7 ماہ بعد ہونے والے انتخاب سے پہلے ریاست میں ایک بار پھر پارٹی بدلنے کا دور تیز ہو گیا ہے۔ حالانکہ اس معاملے میں کانگریس زیادہ مضبوط نظر آ رہی ہے اور آنے والے دنوں میں مزید بی جے پی لیڈروں کے کانگریس میں شامل ہونے کے امکانات روشن ہیں۔