محکمہ لائبریریز نے ’’کتاب کا عالمی دِن ۔2026‘‘ کے موقعہ پر تقریبات کا اِنعقاد کیا

محکمہ لائبریریز نے ’’کتاب کا عالمی دِن ۔2026‘‘ کے موقعہ پر تقریبات کا اِنعقاد کیا

سری نگر// محکمہ لائبریریز و ریسرچ نے ورلڈ بک و کاپی رائٹ ڈے 2026 کے موقعہ پر صوبہ کشمیر بھر میں مختلف تقریبات کا اِنعقاد کیا۔ورلڈ بک و کاپی رائٹ ڈے ہر سال 23 ؍اپریل کو منایا جاتا ہے تاکہ مطالعہ اور تحریر کے شوق کو فروغ دیا جا سکے، اِشاعت کی اہمیت کو اُجاگر کیا جائے، ہر ایک کے لئے کتابوں تک رَسائی کو ممکن بنایا جائے اور کاپی رائٹ قوانین کے ذریعے فکری املاک کے تحفظ کی اہمیت کو سمجھایا جائے۔ یہ دِن اِس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ کتابیں اور ادب ذہنوں کی تشکیل، لوگوں کو جوڑنے اور سماجی تبدیلی کی تحریک دینے میں اہم کردار اَدا کرتے ہیں۔یونیسکو نے 1995 میں اس دن کو منانے کا اعلان کیا تھا اور یہ دِن اَدبی شخصیات جیسے ولیم شیکسپیئر، میگوئل دی سروینٹس اور انکا گارسیلاسو دی لا ویگا کی برسی کی یاد میں بھی منایا جاتا ہے جن کا اِنتقال اسی دن ہوا تھا۔اس ورلڈ بک و کاپی رائٹ ڈے کا تھیم ’’کثیر لسانی کے ذریعے خواندگی اور سب کے لئے کتابوں تک رَسائی‘‘ ہے۔اِس موقعہ پر آج کی مرکزی تقریب ایس پی ایس سینٹرل لائبریری کمپلیکس میں خصوصی اَدبی مجموعوں کی نمائش کے ساتھ منعقد کی گئی جس میں مخطوطات، نایاب کتابیں اور چھوٹی پینٹنگز شامل تھیں۔اِس نمائش کا اِفتتاح ڈائریکٹر جنرل لائبریریز و ریسرچ جموں و کشمیر روبینہ کوثر نے کیا۔ایس پی ایس لائبریری سری نگر اور اورینٹل ریسرچ لائبریری (او آر ایل) سری نگر کے مشترکہ طور پر منعقد کی گئی،میں۔ قرابائے دین، سدھ پنڈلقمان او رشاہنامہ فردوس جیسے تاریخی نسخے تھے۔ اِس کے علاوہ مہابھارت اور رامائن، راج ترنگنی از کلہن، تاریخ رشیدی، گزٹیئر آف اِنڈیا اور کشمیر کی تاریخ سمیت کچھ نایاب کتابیں بھی نمائش میں رکھی گئیں۔اِس موقعہ پر ڈائریکٹر جنرل لائبریریز و ریسرچ جموںوکشمیر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اورینٹل ریسرچ لائبریری سری نگر 1904 میں قائم کیا گیا تھا جو مختلف شعبوں پر مشتمل 17 زبانوں میں تقریباً 6,000 نادر مخطوطات کا ذخیرہ ہے۔ اس لائبریری میں تقریباً 500 نایاب کتابیں اور چھوٹی پینٹنگز بھی موجود ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ او آر ایل کے مخطوطات مذہبی، فلسفیانہ، تاریخی، اَدبی اور سائنسی تحریروں کا ایک قیمتی خزانہ ہیںجو فارسی، سنسکرت، ہندی، اُردو، ترکی، برج بھاشا اور عربی جیسی کلاسیکی زبانوں میں موجود ہیں۔ اِن زبانوں نے کشمیری زبان کی ترقی پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ سنسکرت جو نویں اور دسویں صدی کے آغاز میں کشمیر میں درباری اور ثقافتی زبان تھی، نے مذہبی، جمالیاتی اور شاعرانہ بیانات میں اہم کردار ادا کیا اور یہ سب او آر ایل سری نگر میں محفوظ ہیں۔ڈائریکٹرجنرل لائبریریز وریسرچ نے کہا کہ ایسی نمائشیں نوجوانوں کو جموں و کشمیر کی ثقافت، روایات، ورثہ اور تاریخ سے آگاہ کرتی ہیں۔ زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے اَفراد کی بڑی تعداد نے نمائش کا دورہ کیا اور نایاب ادبی وسائل میں گہری دلچسپی ظاہر کی۔ورلڈ بک و کاپی رائٹس 2026 کے سلسلے میں کشمیر بھر کے ضلع اور تحصیل لائبریریز میں کتابی نمائشوں اور دیگر سرگرمیوں کا بھی اِنعقاد کیا گیا تاکہ نوجوانوں میں مطالعہ کا شوق دوبارہ پیدا کیا جا سکے۔محکمہ لائبریریز نے گزشتہ چند برسوں سے آئی اے ایس، کے اے ایس، این اِی اِی ٹی، جے اِی اِی اور دیگر مسابقتی اِمتحانات کی تیاری کرنے والے طلبأ کے لئے حوالہ جاتی کتابوں کے اِنتخاب پر خصوصی توجہ دی ہے تاکہ کتب کی خریداری کے لئے مختص وسائل کا مؤثر اِستعمال کیا جا سکے جس کے نتیجے میں عوامی لائبریریز میں نوجوانوں کی آمد میں نمایاں اِضافہ ہوا ہے۔