محکمہ اِنفارمیشن ٹیکنالوجی نے زائد قیمت وصول کرنے والوں کے خلاف نکیل کستے ہوئے

محکمہ اِنفارمیشن ٹیکنالوجی نے زائد قیمت وصول کرنے والوں کے خلاف نکیل کستے ہوئے

6 کامن سروس سینٹروں کے لائسنس کو منسوخ کیا ہے

سری نگر//محکمہ اِنفارمیشن ٹیکنالوجی کی اِنسپکشن ٹیموں نے کامن سروس سینٹروں( سی ایس سیز) کے خلاف اوور چارجنگ کے لئے نکیل کستے ہوئے جموںوکشمیر کے دونوں صوبوں میں 6 لائسنسوں کو منسوخ کیا ہے۔کمشنر سیکرٹری پریرنا پوری کی نگرانی میں انسپکشن ٹیموں نے صوبہ جموں کے سانبہ اور جموں اَضلاع سا اور صوبہ کشمیر کے بڈگام میں مختلف کامن سروس سینٹروں( سی ایس سیز)کی اچانک چیکنگ کی۔ یہ معائینہ کراس چیک کرنے اور سی ایس سی کے نوٹیفائیڈ نرخوں پر عمل کرنے کی تصدیق کے لئے کیا گیا تھا۔ ایڈیشنل سیکرٹری آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ اعجاز قیصر نے انسپکشن ٹیموں کی نگرانی کی۔سرپرائز چیکنگ کے دوران صوبہ جموں میں سانبہ اور کٹھوعہ اَضلاع کے 45 کامن سروس سینٹروں (ضلع سانبہ کے 22 سی ایس سی اور ضلع کٹھوعہ کے 23 سی ایس سی) کا معائینہ کیا گیا جبکہ صوبہ کشمیر میں ضلع بڈگام کے 28 کامن سروس سینٹروں(سی ایس سیز) کا معائینہ کیا گیا۔ اِنسپکشن ٹیموں نے 6 سی ایس سی صوبہ جموں میں 3 اور صوبہ کشمیرمیں 3 کامن سروس سینٹروں( سی ایس سیز)کے لائسنس منسوخ کرنے کی سفارش کی ہے۔واضح رہے کہ محکمہ اِنفارمیشن ٹیکنالوجی نے مختلف آن لائن سروسز حاصل کرنے کے لئے نرخوں کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جس کے تحت حکومت سے شہری خدمت کے لئے 50 روپے اور حکومت سے کاروباری خدمات کے لئے 75 روپے فی سروس مختص کئے گئے ہیں۔گزشتہ ایک برس میں زائد قیمت وصول کرنے کی شکایات کی بنیاد پر 664 کامن سروس سینٹروں( سی ایس سی) لائسنس (2023-24 ء میں 624 اور 2024-25 ء میں 40) منسوخ کئے گئے ہیں۔دریں اثنا، نائب صدر سی ایس سی۔ایس پی وِی جموں و کشمیر کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اِس بات کو یقینی بنائیں کہ ہرکامن سروس سینٹر( سی ایس سی) میں نوٹیفائیڈ نرخوں کو نمایاں طور پر آویزاں کیا جائے تاکہ تمام وِلیج لیول انٹرپرینیورز (وِی ایل ایز) کو نوٹیفائیڈ نرخوں کے بارے میں آگاہ کیا جائے۔یہ بات قابلِ ذِکر ہے کہ چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے عام لوگوں کو بغیر کسی رُکاوٹ کے آن لائن خدمات فراہم کرکے ڈیجیٹل اِنڈیا کے مقصد کو حاصل کرنے کے مقصد سے مختلف سرکاری دفاتر ، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں سی ایس سی کے لئے نئے ٹچ پوائنٹس قائم کرنے کی ہدایات جاری کی تھیں۔ اِس کے علاوہ تمام ضلع ترقیاتی کمشنروںکو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ ایسے تمام دفاتر میں نئے ٹچ پوائنٹس کے قیام کے لئے جگہیں مختص کریں۔ تمام اَضلاع کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنروں (اے ڈی سیز) کو نوڈل افسران کے طور پر نامزد کیا گیا ہے تاکہ نئے ٹچ پوائنٹس کھولنے میں آسانی اور تیزی لائی جاسکے۔آج تک 446 نئے کامن سروس سینٹر( سی ایس سی) قائم کئے گئے ہیں اور 13,081 سی ایس سی بشمول 537 پی اے سی اور 2,160 ایف پی ایس فعال ہیں اورجموںوکشمیر یونین ٹیریٹری میں ڈیجی سیوا پورٹل پر خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ضلع ترقیاتی کمشنران جو ڈسٹرکٹ اِی ۔گورننس سوسائٹیز (ڈی ای جیز) کے چیئر پرسن ہیں ان سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ اَپنے متعلقہ اَضلاع میں نوٹیفائیڈ نرخوں پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائیں تاکہ عام لوگوں کو اس کی وجہ سے پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔