mehbooba mufti

محبوبہ مفتی کی تمام جماعتوں کو متحد ہو کر مرکز سے مذاکرات کی اپیل

جموں و کشمیر مایوسی اور بے یقینی کے دوراہے پر کھڑا ، مشترکہ سیاسی پلیٹ فارم وقت کی ضرورت// محبوبہ

سرینگر// سابق وزیر اعلیٰ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے جموں و کشمیر کی مختلف سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی رہنماؤں سے اختلافات پس پشت ڈال کر متحد ہونے کی اپیل کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے ساتھ بامعنی اور مسلسل مذاکراتی عمل شروع کرنے کیلئے مشترکہ کوششوں پر زور دیا ہے۔یو این ایس کے مطابق اس سلسلے میں محبوبہ مفتی نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، اپوزیشن لیڈر سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید کرا، سی پی آئی (ایم) رہنما محمد یوسف تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے رہنما معراج ملک، پی ڈی ایف چیئرمین حکیم محمد یاسین، پینتھرس پارٹی صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت رہنما سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو خطوط ارسال کئے ہیں۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے نام اپنے خط میں محبوبہ مفتی نے لکھا کہ وہ ان سے ملاقات کی خواہاں تھیں، تاہم مصروفیات کے باعث یہ ممکن نہ ہو سکا، اس لئے انہوں نے تحریری طور پر رابطہ کیا کیونکہ موجودہ حالات مزید تاخیر کے متحمل نہیں ہو سکتے۔انہوں نے اپنے خط میں کہا کہ لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس کی جانب سے مرکز کے ساتھ حالیہ پیش رفت ایک اہم سبق فراہم کرتی ہے کہ مسائل کا حل صرف مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں مایوسی اور بے یقینی کا احساس عام ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ تعطل سے نکلنے کیلئے جماعتی اور سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع تر اتفاق رائے پیدا کرنا ناگزیر ہے۔خط میں انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار، تحفظ اور حقوق کی بحالی مقصود ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ ان کے مطابق تمام سیاسی جماعتوں کو متحد ہو کر وزیر اعظم اور وزیر داخلہ سے رابطہ کرنا چاہئے تاکہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ بامعنی اور مسلسل مذاکراتی عمل کا آغاز ہو سکے۔یو این ایس کے مطابق محبوبہ مفتی نے زور دے کر کہا کہ سیاسی اختلافات اور متضاد نظریات کو وقتی طور پر پس پشت ڈال کر اجتماعی مفاد کیلئے متحد ہونا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سیاسی کریڈٹ حاصل کرنے یا ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کا معاملہ نہیں بلکہ عوامی مفاد میں اتحاد کا ایک تاریخی موقع ہے۔انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ریاستی حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے تمام سیاسی جماعتوں کا ایک باضابطہ اجلاس طلب کریں تاکہ مشترکہ سیاسی پلیٹ فارم کی تشکیل عمل میں لائی جا سکے اور مرکز کے ساتھ بامعنی رابطے کا آغاز ہو۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ 2019 کے بعد پیدا ہونے والے حالات میں علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات نے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے اب ایک وسیع سیاسی اتفاق رائے ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر لداخ میں مختلف جماعتیں مشترکہ مقصد کیلئے متحد ہو سکتی ہیں تو جموں و کشمیر میں بھی ایسا ممکن ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس مجوزہ پلیٹ فارم کی کامیابی کیلئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا تعاون ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق موجودہ غیر معمولی حالات میں حقیقی سیاسی اتحاد ہی عوام کے حقوق، وقار اور آئینی تحفظات کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔محبوبہ مفتی نے اپنے خط کے اختتام پر وزیر اعلیٰ سے فوری طور پر ایک کل جماعتی اجلاس بلانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر مزید انتظار اور تاخیر کا متحمل نہیں ہو سکتا۔