ریاستی درجہ، آرٹیکل 370 اور 35 اے کے خاتمے کی ذمہ داری پی ڈی پی،بھاجپا اتحاد
سرینگر// نیشنل کانفرنس کی سینئر رہنما اور وزیر صحت و طبی تعلیم سکینہ ایتو نے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے عوامی مفاد کے بجائے اقتدار کو ترجیح دی اور جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت اور ریاستی درجہ کے خاتمے سمیت کئی سیاسی پیش رفتوں کی ذمہ داری انہی کے فیصلوں پر عائد ہوتی ہے۔یو این ایس کے مطابق صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سکینہ ایتو نے کہا کہ محبوبہ مفتی کے سیاسی فیصلوں نے جموں و کشمیر کو موجودہ صورتحال تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 370 اور 35 اے کی منسوخی، ریاست کو مرکز کے زیر انتظام علاقے میں تبدیل کئے جانے اور عوام کو درپیش مشکلات کے پس منظر میں پی ڈی پی۔بی جے پی اتحاد کی سیاست کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔سکینہ ایتو کے مطابق 2018 میں جب بی جے پی نے محبوبہ مفتی کی حکومت سے حمایت واپس لی تھی تو نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے بغیر کسی شرط کے حکومت کو حمایت دینے کی پیشکش کی تھی تاکہ بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھا جا سکے۔انہوں نے کہا، ’’ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کسی وزارت یا عہدے کا مطالبہ کئے بغیر غیر مشروط تعاون کی پیشکش کی تھی۔ مقصد صرف یہ تھا کہ جموں و کشمیر کے مفادات کا تحفظ ہو اور بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھا جائے، لیکن محبوبہ مفتی نے یہ پیشکش مسترد کر دی کیونکہ ان کی ترجیح عوام نہیں بلکہ اقتدار تھا‘‘۔وزیر صحت نے کہا کہ پی ڈی پی اور بی جے پی کے اتحاد کے نتائج بالآخر جموں و کشمیر کے عوام کو بھگتنا پڑے۔ ان کے مطابق آج نہ ریاستی درجہ باقی ہے، نہ آرٹیکل 370 اور نہ ہی آرٹیکل 35 اے، جبکہ ہزاروں افراد مشکلات اور قید و بند کی صعوبتوں سے دوچار ہوئے۔یو این ایس کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ اگست 2019 کے بعد ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے بارہا علاقائی سیاسی جماعتوں کے اتحاد اور مشترکہ پلیٹ فارم کی وکالت کی تاکہ جموں و کشمیر کے حقوق اور تشخص کا دفاع کیا جا سکے، تاہم محبوبہ مفتی نے ان کوششوں کا ساتھ نہیں دیا۔سکینہ ایتو نے الزام لگایا کہ جموں و کشمیر کی حالیہ سیاسی تاریخ کے اہم مواقع پر محبوبہ مفتی نے وسیع تر عوامی مفاد کے بجائے اپنی سیاسی خواہشات کو ترجیح دی۔انہوں نے یہ تبصرہ ایک ایسے وقت میں کیا جب محبوبہ مفتی نے اسی روز وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں اور سول سوسائٹی کے ارکان کو خط لکھ کر وزیر اعظم اور وزیر داخلہ سے رابطہ کرنے اور جموں و کشمیر کو درپیش مسائل کے حل کیلئے مشترکہ کوششوں کی اپیل کی تھی۔غیر قانونی تجاوزات کے خلاف حالیہ کارروائیوں پر بات کرتے ہوئے سکینہ ایتو نے قانون کے یکساں نفاذ کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر غریب افراد کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے تو بڑے اور بااثر قبضہ گروپوں کے خلاف بھی یکساں کارروائی ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا، ’’قانون طاقتور اور کمزور کیلئے الگ الگ نہیں ہو سکتا۔ اگر کسی نے غیر قانونی طور پر زمین پر قبضہ کیا ہے تو اس کے خلاف بلا امتیاز کارروائی ہونی چاہیے‘‘۔سکینہ ایتو نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ نیشنل کانفرنس جموں و کشمیر کے ریاستی درجے کی بحالی اور عوام کے سیاسی، آئینی اور معاشی حقوق کے تحفظ کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔انہوں نے کہا، ’’ریاستی درجے کی بحالی اور عوام کی شناخت، وقار اور حقوق کے تحفظ کیلئے ہماری جدوجہد جاری رہے گی اور یہی ہماری سیاسی وابستگی ہے‘‘۔










