لیفٹیننٹ گورنرنے طلباء، اساتذہ اورپیشہ ور افراد پر زور دیا ہے کہ وہ اَپنے جذ بے اور پوری لگن کے ساتھ قوم کی تعمیر میں اَپنا حصہ اَدا کریں
سری نگر//لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آج کشمیر یونیورسٹی میں اِنر سپیس سینٹر کے زیر اہتمام ایک موٹیویشنل تقریب’خوشی کی زندگی‘ سے خطاب کیا۔اُنہوں نے اَپنے خطاب میں اِنر سپیس سینٹرکو مُبارک باد دی۔ اُنہوں نے بین الاقوامی موٹیویشنل سپیکر سسٹر شیوانی کا جموں و کشمیر یوٹی میں خیرمقدم کیا۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ آج کی دنیا میں تناؤ ایک سماجی مسئلہ بن چکاہے اور کئی بار لوگ اس صورتحال سے مغلوب ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے اضطراب پیدا ہوتا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ اگر وہ بیرونی اور اندرونی سفر کے درمیان ٹھیک توازن پیدا کریں تو وہ بے حد خوش ہوسکتے ہیں۔اُنہوں نے کہا،’’اگر تناؤ حقیقی ہے، تو خوشی بھی ہے۔ ہم زندگی کی اندرونی چیزوں میں اِس قدر اُلجھ جاتے ہیں کہ ہم جینا اور زندگی سے لطف اندوز ہونا بھول جاتے ہیںجو زندگی ہمیں پیش کررہی ہے ۔ ہمیں اَپنے اَندر جھانکنا چاہئے اور اِس خوبصورت زندگی کی اَپنی صلاحیت اور اہمیت کو پہچاننا چاہیے جو اِمکانات سے بھری ہوئی ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ہماری عظیم ملک کے قدیم فلسفے نے ہمیشہ لوگوں کی رہنمائی کی ہے کہ وہ سب سے پہلے اپنے آپ کو جانیں، اَپنی اِنفرادیت کو فروغ دیں، تخلیقی صلاحیتوں پر توجہ دیں اور اپنے جذبے کی پیروی کریں۔اُنہوں نے کہا کہ اکثر اوقات جب کوئی بہت پریشان یا تناؤ کا شکار ہوتا ہے تو دور سے کہیں موسیقی بجنے کی آواز ایک نیا ،لیکن لمحاتی جوش پیدا کرتی ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک لمحہ 365 دن اور چوبیسوں گھنٹے خوشی میں تبدیل ہوسکتا ہے جب لوگ اپنی تخلیقی صلاحیتوںاورجذبے کی پیروی کرتے ہیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے طلباء ، اساتذہ اور پیشہ ور افراد پر زور دیا کہ وہ اپنے جذبے اور پوری لگن کے ساتھ ملک کی تعمیر میں اپنا حصہ اَدا کریں۔اُنہوں نے کہا،ہر شخص منفرد ہے۔ اسے پہچاننے کی ضرورت ہے۔ اِس سفر میں ہمارا ہر قدم دوسروں کی خدمت کے لئے وقف ہونا چاہیے۔ ہر آنکھ سے ہر آنسو پونچھنا اور عدم مساوات کو مٹانا ہمارا مشن ہونا چاہیے۔ زندگی کا وقار، فخر، دعائیں تب ہی معنی خیز ہو سکتی ہیں جب ہم کسی کے آنسو پونچھ سکیں اور اسے صحیح راستہ دکھا سکیں۔‘‘اِس موقعہ پر اے ڈی جی پی کشمیر وِجے کمار، وائس چانسلر کشمیر یونیورسٹی پروفیسر نیلوفر خان،یوٹی اور پولیس اِنتظامیہ کے سینئر اَفسران ، اِنرسپیس سینٹر اور جاپیتا برہما کمار یہ ایشوریا وشوودھیالیہ کے ممبران اور نوجوانوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔










