جموں//لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آج جموں میں ’’ زرعی مستقبل کی فائنانسنگ ‘‘ کے موضوع پر ایک سمینار سے خطاب کیا۔سمینار میں زرعی شعبوں اور بینکنگ اِداروں کے شراکت داروں کو زرعی ترقی اور کریڈٹ سپورٹ پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے اکٹھا کیا۔لیفٹیننٹ گورنر نے بینکنگ سیکٹر پر زور دیا کہ وہ زراعت اور اس سے منسلک شعبے کی تیز رفتار ترقی کے خواب کو پورا کرنے میں اہم کردار اَدا کریں۔ اُنہوں نے کسانوں کو ہر طرح کی مدد اور کوآپریٹیو بینکوں کے احیاء کے لئے مناسب فنڈ کی یقین دہانی بھی کی۔اُنہوں نے کہا ،’’ اَمرت کال کے پہلے بجٹ میں وزیر اعظم اور وزیر خزانہ نے ’’ وانچیتو کو وریاتا‘‘ کے نظریۂ سے جامع ترقی اور سماج کے ہرطبقے کو بااِختیار بنانے کا راستہ دِکھایا ہے اور زرعی شعبے کو ترجیح دی ہے۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ اِس برس کے بجٹ میں ایگری کلچر ایکسلر یٹر فنڈ کا تصور دیا گیا ہے جو دیہی علاقوں میں ایگری سٹارٹ اَپس کی حوصلہ اَفزائی کرے گا۔ یہ مقامی نوجوانوں کو کاروباری مواقع فراہم کرے گا اور زرعی شعبے میں درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے حل فراہم کرے گا۔ زرعی قرضہ جات کا ہدف بڑھا کر 20 لاکھ کروڑ روپے کیا گیا ہے اوراُنہوں نے مزید کہا کہ پشوپالن ، ڈیری اور ماہی پروری پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے زرعی شعبے میں تبدیلی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اِنتظامیہ کی طرف سے گزشتہ تین برسوں میں متعارف کی گئی ترقی پسند اِصلاحات کسانوں کو فائدہ پہنچا رہی ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ اَمرت کال ہمیں زرعی شعبے کو تبدیل کرنے اور کسانوں کو غیر متوقع مارکیٹ ، موسمیاتی تبدیلی اور حیاتیاتی تنوع کے نقصان سے بچانے کا موقعہ فراہم کرتا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ جموںوکشمیر یوٹی زراعت اور اس سے منسلک شعبے کی مجموعی ترقی کے تحت پروجیکٹس ملک کے زرعی بڑے طویل مدتی اور زمینی اقدامات میں سے ایک ہیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے مزیدکہا کہ زراعت اور اس سے منسلک شعبے کی ہمہ گیر ترقی کے لئے 5,013 کروڑ روپے کے اِنقلابی منصوبے مستقبل کے چیلنجوں سے نمٹنے ، ترقی کی رفتار کو تیز کرنے اور جموںوکشمیر یوٹی میں کسانوں کی خوشحالی اور رورل لائیو لی ہڈ کے تحفظ کے ایک نئے دُور کا آغاز کرنے کے لئے عملی حل فراہم کرے گا۔اُنہوںنے تمام شراکت داروں کو زراعت اور اس سے منسلک شعبے کی ہمہ گیر ترقی کے تحت منصوبوں کے کامیاب نفاذ کے لئے راغب کیا۔اُنہوں نے کہاکہ زراعت اور اس سے منسلک شعبوں کی ہمہ گیر ترقی سے جموںوکشمیر میں زرعی صنعت کاروں کا ایک مضبوط ماحولیاتی نظام تیار ہوگا اور ان شعبوں میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے ۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ چوتھے برس میں 30,000 کروڑ روپے کا عبور کرے گا۔لیفٹیننٹ گورنر نے کسانوں کو اِدارہ جاتی قرض کو ہموار کرنے پر زور دیا۔اُنہوں نے کہاکہ ان کسانوں کو بینکنگ سسٹم سے جوڑنے کی ذمہ داری تمام بینکوں پر عائد ہوتی ہے۔اُنہوں نے کہا کہ بینکنگ اِدارے کسانوں تک زیادہ سے زیادہ اِدارہ جاتی قرض تک پہنچنے کو یقینی بنانے کے لئے سب سے اہم اِمدادی نظام بالخصوص غیر بینک والے گائوں میں ہیں ۔اُنہوں نے زرعی شعبے میں اِدارہ جاتی قرضوںکو فروغ دینا ،زراعت کی معیشت کو مضبوط بنانے اور جامع اور متوازن ترقی کے ہدف کو حاصل کرنے میں ایک گیم چینجر ثابت ہوگا۔ اُنہوں نے کہاکہ کرایہ دار ، چھوٹے اور درمیانہ درجے کے کسانوں کے لئے قرض تک رَسائی کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔لیفٹیننٹ گورنر نے مزیدکہاکہ ہر کسان کو قرضے کی فراہمی اور قرض سہولیات کی توسیع میں علاقائی دیہی بینکوں کے اہم کردار پر زور دیا۔اُنہوں نے مشاہدہ کیا کہ گزشتہ 8برسوں میں کمرشل بینکوں کے قرضے دوگنا ہوگئے ہیں ۔ پھر بھی ہمیں قرض کو بڑھانا ہے اور اِدارہ جاتی قرضوں کی مساوی تقسیم کو یقینی بنانا ہے اور ان علاقوں کی نشاندہی کرنی ہے جو عدم مساوات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اُنہوں نے بینکوں سے کہاکہ وہ منصوبہ بند طریقے سے کا م کریں اور زراعت اور اس سے منسلک سرگرمیوں سے وابستہ تمام کسانوں کے لئے کے سی سی کے وقت کے پابند ہونے کو یقینی بنائیں ۔ اُنہوں نے جموںوکشمیر بینک سے کہا کہ وہ زراعت اور متعلقہ شعبے سے وابستہ خواتین کو اعزاز دینے کے لئے ایک پروگرام منعقد کرے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ بینکنگ اِنڈسٹری کو چھوٹے اور پسماندہ کسانوں ، نوجوانوں اور خواتین کا شت کاروں کی خدمت کرنے اور ترقی کے طور پر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنایا جانا چاہیے کہ ہروہ خاتون جو زرعی صنعت کار بننا چاہتی ہے اسے بغیر کسی پریشانی کے مالی اِمداد ملنی چاہیے۔اِس موقعہ پر لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر راجیو رائے بھٹناگر ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ زرعی پیداوار اَتل ڈولو ، سی اِی او نیشنل رین فیڈ ائیریا اَتھارٹی ڈاکٹر اشوک دِلوائی ، کمشنر سیکرٹری کوآپریٹیو ڈیپارٹمنٹ محترمہ یشامدگل ، ریجنل ڈائریکٹر آر بی آئی کمل پی پٹنائک ، ایم ڈی اور سی اِی او جموں وکشمیر بینک بلدیو پرکاش ، سی جی ایم نبارڈ جموں ڈاکٹر اَجے کمار سود، کسان ایڈوائزری بورڈک ے ممبران نے بھی زرعی شعبے میں مالیاتی اِداروں کے کردار پر اَپنے خیالات کا اِظہار کیا۔










