سری نگر//لیفٹیننٹ گورنر نے ایس کے آئی سی سی سری نگر میں پہلی بار یوٹی سطح کے قبائلی ایوارڈز سے قبائلی فلاح و بہبود اور کھیل ، تعلیم ، ثقافت ، ادب اور سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں کامیابیوں کے لئے لوگوں اور اِداروں کو ان کی مثالی خدمات پرنوازا اورانہیں مبارک باد دی۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہاکہ پہلی بار یوٹی سطح کے قبائلی ایوارڈز کی تقریب میں شرکت کرنے پرمجھے فخرہے ۔اُنہوں نے کہاکہ کمیونٹی کی کامیابیوں اور خدمات کا اعتراف کرنے کا یہ اقدام بہت سے لوگوں کو دوسروں کی فلاح و بہبود کے لئے کام کرنے کی ترغیب دے گا۔اُنہوںنے جموںوکشمیر کی قبائلی برادری کی فلاح و بہبود کے لئے حکومت کی طرف سے اُٹھائے گئے اِقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ جموںوکشمیر یوٹی حکومت قبائلی برادریوں کی ہمہ جہت ترقی کے لئے انتھک محنت کر رہی ہے ، قبائلی نوجوانوں اور خواتین میں کاروبار ی صلاحیت کو فروغ دے رہی ہے ، قبائلی سکولوں کو تبدیلی کیاجارہا ہے اور گائوں کی ترقی ، سیاحت ، وَن دھن کو ان کو بااِختیار بنانے کے لئے عملایا جارہا ہے ۔لیفٹیننٹ گورنر نے اعلان کیا کہ 500قبائلی نوجوانوںکو بمبئی سٹاک ایکسچینج اور پنجاب نیشنل بینک کے تجویز کردہ مالیاتی خواندگی پروگرام کے تحت تربیت دی جائے گی۔اُنہوں نے کہا کہ اِنتظامہ نے نوجوانوں کی دیرپا روزی روٹی کے لئے قبائلی علاقوں میں چھوٹے شیپ فارم قائم کئے ہیں ۔ اُنہوں نے کہا کہ قبائلی نوجوانوں کو ڈیری شعبے سے جوڑنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ اِس کے علاوہ سکل ڈیولپمنٹ اور پیش ورانہ تربی کے پروگرام شروع کئے گئے ہیں تاکہ ایک بڑی آبادی کو معیشت کے دھارے میں شامل کیا جاسکے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ کئی برسوں کے اِنتظار کے بعد حکومت نے فارسٹ رائٹس ایکٹ گذشتہ برس نافذ کیا تھا۔ جموںوکشمیر یوٹی اِنتظامیہ جموں وکشمیر میں قبائلی کنبوں کی دیرپا روزی روٹی کے لئے 100وَن دھن مرکز قائم کر ہی ہے۔اُنہوں نے مزید کہا کہ حکومت قبائلی برادری کی خواتین کو مالی طور پر خود مختار اور بااِختیار بنانے کے لئے 1500 ون دھن سیلف ہیلپ گروپس بھی شروع کررہی ہیں۔اِس تاریخی موقعہ پر قبائلی اَمور محکمہ اور آئی آئی ٹی جموں اور باباغلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری کے دونوں اداروں میں قبائلی چیئر کے قیام کے لئے مفاہمت ناموں پر دستخط کئے گئے۔اُنہوں نے کہاکہ جموںوکشمیر میں ٹرائبل ریسرچ اِنسٹی چیوٹ قبائلی ثقافتی ورثے کا تحفظ کر رہا ہے ۔ قبائلی برادریوں سے نمایاں کامیابی حاصل کرنے والوں کو خراجِ تحسین پیش کررہا ہے ۔ ان کی صلاحیتوں کو مکمل طور پر بروئے کار لانے کے لئے صلاحیت سازی کی خاطر تحقیقی سرگرمیوں کو آگے بڑھارہا ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ وزیر اعظم کے ’سب کا ساتھ ، سب کا وِکاس ، سب کا شواس ، سب کا پریہاس ‘ کے اعلیٰ نظریات سے رہنمائی کرتے ہوئے جموںوکشمیر یوٹی اِنتظامیہ نہ صرف قبائلی سماج کی ناگزیر شراکت کو فخر سے سراہا رہی ہے بلکہ آزادی کا امرت مہااُتسو میں سماجی مساوات اور سماجی ہم آہنگی پر مبنی ایک نئے سماجی نظام کے قیام کی طرف ثابت قدمی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ ہم نے ایک مؤثر اور جامع حکمت عملی تیار کی ہے جسے قبائلی کنبوں کی آمدنی بڑھانے اور نوجوانوں کو زندگی بھر کے مواقع فراہم کرنے ، بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے اور ہر کنبے کو سماجی تحفظ کے نیٹ ورک کے تحت لانے کے لئے نچلی سطح پر عمل میں لایا جارہا ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ گذشتہ دو برسوں میں جموںوکشمیر یوٹی حکومت نے بے مثال پالیسی فیصلوں ، سکیموں اور پروگراموں کے ذریعے بنیادی ڈھانچے اور اِنسانی وسائل کی ترقی کو حاصل کرنے کی سمت کام کیا ہے۔اُنہوں نے قبائلی برادریوں کی ترقی کے لئے تعلیم سب سے طاقتور ہتھیار قرار دیتے ہوئے کہا کہ سکالر شپ کے بجٹ کو گذشتہ برس کے 31کروڑ روپے سے بڑھا کر 45کروڑ روپے کیا گیا ہے ۔اُنہوں نے جموںوکشمیر یوٹی کے قبائلی امور محکمہ کے اَفسران کی کوششوں کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ وہ تمام دستیاب فلاحی سکیموں کو یکجا کرنے پر توجہ مرکوز کرے تاکہ نچلی سطح پر زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کئے جاسکیں۔اِس موقعہ پر چیف سیکرٹری ڈاکٹر ارون کمار مہتا نے قبائلی برادری کی ترقی کے نئے دور کی ایک اہم شروعات قرار دیا ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ آج شروع کئے گئے اقدامات قبائلی آبادی کو ترقی کے مرکزی دھارے سے جوڑنے کی ہماری کوششوں کا حصہ ہے۔سیکرٹری قبائلی امور محکمہ ڈاکٹر شاہد اِقبال چودھری نے جموںوکشمیر کی قبائلی برادری کو بااِختیار بنانے کے لئے کئے گئے مختلف اقدامات پر روشنی ڈالی۔اِس تقریب میں قبائلی برادری کی فلاح و بہبود کے لئے مختلف اقدامات کے اِفتتاح اور آغاز کا بھی مشاہدہ کیاگیا جن میں ٹی آر ئی نیوز لیٹر کا پہلا ایڈیشن ، قبائلی تحقیقی ادارے کا ویب پورٹل ، قبائلی ہیلپ لائن ، جدید ترین کمپیوٹر لیبارٹری، سکل ڈیولپمنٹ پروگرام شامل ہیں۔بعدمیں لیفٹیننٹ گورنر نے مختلف کلسٹر قبائلی دیہاتوں کے لئے 41 ایمبولینسوں کو ہری جھنڈی دِکھا کر روانہ کیا۔ اِس موقعہ پروائس چانسلر بی جی ایس بی یو پروفیسر اکبر مسعود ، مختلف اضلاع کے ضلع ترقیاتی کمشنران ، پی آر آئی اراکین ،سرکردہ شہری اور قبائلی برداری کے اَفراد بڑی تعداد میں موجود تھے۔










